.

کیا ایران کے پارلیمنٹ کے اسپیکر کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے آج منگل کے روز ریاست کے تینوں ستونوں کے سربراہان کے ساتھ مقررہ ملاقات کو منسوخ کیے جانے پر بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے۔ بالخصوص جب کہ فارس نیوز ایجنسی کا یہ کہنا ہے کہ منسوخی کا فیصلہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ممکنہ طور پر کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔

ایجنسی نے واضح کیا کہ ملاقات کو منسوخ کرنے کا سبب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کرونا کے مریضوں سے ملاقات کے لیے دورہ کرنا ہے۔ اس کے سبب وائرس کے صدر روحانی کو منتقل ہونے کا بھی امکان ہے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر نے پیر کے روز دوپہر کے بعد تہران میں "الخمينی" ہسپتال کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران وہ کوویڈ 19 سے متاثرہ مریضوں کے لیے مختص انتہائی نگہداشت کے یونٹ بھی گئے۔

ریاست کے تینوں ستوں کے سربراہان کا اجلاس آج منگل کی صبح پارلیمںٹ کی عمارت میں قالیباف کی میزبانی میں ہونا مقرر تھا تاہم صدر روحانی نے اسے منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ ایران کے متعدد سرکاری ذمے داران کرونا وائرس سے متاثر ہو کر موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان میں رہبر اعلی علی خامنہ ای کے دفتر کے ملازمین، ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران اور پارلیمنٹ کے ارکان شامل ہیں۔

ایران کو اس وقت کرونا وائرس کی تیسری لہر کا سامنا ہے جس کی شدت نے حکام کو مجبور کر دیا کہ وہ دارالحکومت تہران میں ایک ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کر دیں۔ علاوہ ازیں ملک کے کئی دیگر صوبوں میں بھی سخت قیود وضع کی گئی ہیں۔

ایران میں انسداد کرونا کمیٹی کے رکن محمد رجا محبوب فر انکشاف کر چکے ہیں کہ ملک میں اس وبائی مرض کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد سرکاری طور پر اعلان کردہ اعداد و شمار سے 20 گنا زیادہ ہے۔ تاہم حکام سیاسی اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر حقیقی تعداد ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے باور کرایا کہ حکومت نے سیاسی اور سیکورٹی اسباب کی بنا دسمبر 2019ء سے کرونا کی وبا کے پھیلاؤ کو چُھپایا۔

یاد رہے کہ ایران کی وزارت صحت نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ تقریبا پورے ملک میں الرٹ رہنے کی سطح کو انتہائی درجے پر کر دیا گیا ہے جس کو سرخ رنگ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ اور موت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ سامنے آیا ہے۔

اسی طرح وزارت صحت کی خاتون ترجمان سیما سادات لاری نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ککہ ایران کے 31 میں سے 26 صوبے ریڈ زون بن چکے ہیں۔ یہ خطرے سے خبردار کرنے کی اعلی ترین سطح ہوتی ہے۔ ملک کے بقیہ چار صوبوں میں یہ سطح "اورنج" ہے جو ریڈ کے بعد اگلی سطح ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں