.

حوثیوں کی گولہ باری سے الحدیدہ کے سب سے بڑے صنعتی کمپلیکس میں آگ بھڑک اٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے فائر بندی اور تمام تر بین الاقوامی منشوروں کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین کارروائی میں باغی ملیشیا نے الحدیدہ شہر میں سب سے بڑے صنعتی اور تجارتی کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ بات یمن کے مغربی ساحل کے علاقے میں العمالقہ بریگیڈز کے میڈیا مرکز نے بتائی۔

مرکز کے مطابق حوثی ملیشیا نے منگل کی شب الحدیدہ میں واقع 'اخوان ثابت انڈسٹریل اینڈ کمرشل کمپلیکس' پر براہ راست توپ کے 3 گولے داغے۔ اس کے نتیجے میں کمپلیکس کے گوداموں میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔

کمپلیکس میں کام کرنے والے ذرائع کے مطابق کمپلیکس میں آگ بجھانے والی خصوصی ٹیم اس صورت حال سے نمٹنے میں ناکام رہی۔ آگ نے گوداموں میں رکھے ہوئے تمام سامان کو جلا کر خاکستر کر دیا۔ اس کے سبب کمپلیکس میں کام مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو جائے گا۔

دوسری جانب حوثی ملیشیا نے الحدیدہ صوبے کے ضلع الدریہمی میں فائر بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ یمن کے وزیر خارجہ محمد عبداللہ الحضرمی کے مطابق باغی ملیشیا مارب، الجوف اور البیضاء کے محاذوں پر اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے الحدیدہ میں جارحیت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

منگل کے روز مشرق وسطی کے امور کے لیے برطانوی وزیر مملکت جیمز کلفرلے سے وڈیو کال پر بات کرتے ہوئے الحضرمی نے حوثی ملیشیا کو ان تمام خلاف ورزیوں کا ذمے دار ٹھہرایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یمن کی قومی فوج عرب اتحاد کی مدد کے ساتھ صوبے کے بقیہ علاقوں کو آزاد کرانے کی قدرت رکھتی ہے۔

اسی طرح یمنی وزیر خارجہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے اقوام متحدہ کی ٹیم کی صافر آئل ٹینکر تک رسائی میں مسلسل رکاوٹ ڈالنے کی بھی سخت مذمت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے اس قضیے کے حل کے واسطے نتائج کے ضامن اقدام کی ضرورت ہے۔