.

امریکی سینیٹ کے دو ارکان کا ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ان رپورٹوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ترکی ،،، یونان کے امریکی ساختہ لڑاکا طیاروں کے خلاف روس کے تیار کردہ دفاعی میزائلوں کو آزما رہا ہے۔

امریکی اخبار "The Hill" نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ کئی برس سے امریکی قانون ساز شخصیات ترکی کی جانب سے روسی فضائی دفاعی نظام S-400 کی خریداری کے حوالے سے اندیشوں کا اظہار کرتی آ رہی ہیں۔ انہوں نے انقرہ پر ان پابندیوں کے عائد کرنے پر زور دیا جو امریکی قانون روسی دفاعی صنعت کے ساتھ معاملات طے کرنے والوں کے خلاف لاگو کرتا ہے۔

مذکورہ دونوں سینیٹرز وان ہولن اور جیمز لینکفورڈ نے بدھ کے دن امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے نام تحریر خط میں کہا "ہم ان خصوصی رپورٹوں کے حوالے سے یہ تحریر کر رہے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ترکی نے روسی ساختہ S-400 فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا ہے۔ اس کا مقصد اگست کے اواخر میں فرانس، اطالیہ ، یونان اور قبرص کے درمیان ہونے والی فوجی مشقوں سے واپس لوٹنے والے F-16 طیاروں کا پتہ چلانا تھا"۔

دونوں سینیٹرز نے مزید کہا کہ "ان معلومات کی بنیاد پر ہم ایک بار پھر آپ پر زور دے رہے ہیں کہ ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں جیسا کہ امریکی قانون میں موجود ہے"۔

ترکی نے مذکورہ میزائل نظام کی پہلی کھیپ گذشتہ برس روس سے خریدی تھی۔ اس کے سبب واشنگٹن نے ترکی کو F-35امریکی لڑاکا طیاروں کے پروگرام سے بے دخل کر دیا تھا۔

امریکی مخالفت اور پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود ترکی نے S-400 نظام کی پہلی کھیپ جولائی 2019ء میں حاصل کر لی۔

امریکی کانگرس کے ارکان نے جولائی میں ایک قانونی بل پیش کیا تھا جس کا مقصد انقرہ کی جانب سے روسی ساختہ فضائی دفاعی نظام S-400 کی خریداری پر ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کرنا تھا۔ پابندیوں کو عائد کرنے کا مطالبہ امریکی قانونCAATSA کی روشنی میں کیا گیا۔

سال 2017ء میں جاری اس قانون کے تحت امریکا ایسے کسی بھی ملک پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے جو واشنگٹن کے حریفوں سے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی خریداری کرے۔ ان حریفوں میں روس بھی شامل ہے۔