.

انور سادات اور حسنی مبارک کے صدارتی طیارے کے کپتان نے کن رازوں سے پردہ اٹھایا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فضائیہ کے ریٹائرڈ میجر جنرل اور مصر کے دو سابق صدور انور سادات اور حسنی مبارک کے خصوصی صدارتی طیارے کے پائلٹ ابو بکر حامد نے دونوں شخصیات کے ساتھ کئی برس کام کرنے کے دور سے وابستہ بہت سی یادوں اور رازوں کا انکشاف کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ابو بکر نے بتایا کہ انہوں نے صدارتی طیارے کے پائلٹ کی حیثیت سے مذکورہ دونوں سابق صدور کے ساتھ اندرون و بیرون ملک متعدد سفر کیے۔ اس دوران بہت سی یادیں ان کے دماغ میں آج بھی بسی ہوئی ہیں۔ اسی طرح ابو بکر نے سابق اسرائیلی صدر عائزرا وائزمین اور سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کے ساتھ بھی اڑان بھری۔

میجر جنرل ابو بکر حامد کے مطابق 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد ان کا تقرر اہم شخصیات کی آمد و رفت کے شعبے میں کر دیا گیا۔ وہ مذکورہ جنگ میں اس وقت مصری فضائیہ کے سربراہ محمد حسنی مبارک کی ٹیم میں شامل ہو کر لڑاکا طیارے کے ہواباز کی حیثیت سے شریک ہوئے۔

ابو بکر حامد نے کسی بھی صدر کے ساتھ بطور خصوصی ہواباز 1977ء میں اڑان بھری۔ وہ صدر انور سادات کا طیارہ لے کر قاہرہ کی فضا میں اڑے جہاں سڑکوں پر عوام روٹی کے نام پر احتجاجی مظاہروں میں مصروف تھے۔ ابو بکر کے مطابق انور سادات زمینی صورت حال دیکھ کر رنجیدگی اور حیرت کا شکار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یقین نہین آ رہا کہ یہ مصری عوام ہیں اور تخریب کاری اور انارکی پھیلا رہے ہیں"۔

ابو بکر نے مزید بتایا کہ انور سادات امن معاہدہ دستخط ہونے کے بعد سیناء صوبے کی واپسی سے متعلق بعض تفصیلات پر اتفاق رائے کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم مناحم بیگن سے ملاقات کے لیے اسوان جا رہے تھے۔ وہ طیارے میں سوار ہوئے تو بہت مسرور تھے۔ انہوں نے طیارے کے عملے سے باری باری ان کی خیریت دریافت کی۔ اس دوران وہ مسلسل پائپ پیتے ہوئے اس کا دھواں ہوا میں اڑانا نہیں بھولے۔ اپنی نشست پر براجمان ہو کر سابق صدر ام کلثوم اور اسمہان کے گیت سنا کرتے تھے۔ میجر جنرل ابو بکر حامد کے مطابق مناحم بیگن سے ملاقات کے بعد انور سادات واپس لوٹے تو وہ غصے میں بپھرے ہوئے تھے۔ انہوں نے مصری وزیر خارجہ سے کہا کہ "یہ لوگ (اسرائیلی) ہم سے ریت کا ایک ذرہ نہیں لے سکیں گے میں سیناء کی سرزمین سے ایک بالشت پیچھے نہیں ہٹوں گا ... یہ لوگ انور سادات کو جانتے نہیں ہیں جس نے ان کو جنگ کے جہنم میں جھونکا اور اب وہ امن کے لیے انہیں ناکوں چنے چبوا دے گا"۔

ابو بکر کے مطابق انور سادات کی شخصیت ایسی تھی کہ ایک ہی سفر کے دوران ان کا موڈ اور مزاج تبدیل ہو جاتا تھا۔ صبح وہ مسکراتے ہوئے طیارے میں سوار ہوتے تو شام میں اکثر ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ وہ حسنی مبارک کے برخلاف "پائپ" بہت زیادہ پیتے تھے جب کہ حسنی مبارک کو تمباکو نوشی سے نفرت تھی اور وہ کسی کو بھی طیارے میں سگریٹ نوشی کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

ابو بکر نے بتایا کہ انور سادات پرواز کے دوران کاک پٹ کا دروازہ کھلا رکھتے تھے تا کہ فضائی جھٹکوں کے وقت ہوابازوں کے رد عمل کو دیکھ سکیں۔ ابو بکر کے مطابق اسرائیلیوں سے سیناء میں العریش کا کنٹرول لینے کے موقع پر انور سادات نے جائے نماز طلب کی اور اپنے ہمراہ وفد کے ساتھ نماز ادا کی۔ اس موقع پر ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو رواں تھے کہ ایک بڑی جنگ اور دشوار مذاکرات کے بعد سیناء کی مٹی واپس نصیب ہو گئی۔

ابو بکر نے بتایا کہ انور سادات ایک متواضع اور انتہائی ذہین انسان تھے۔ وہ اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ نہایت خدا ترسی کا معاملہ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ المنوفیہ صوبے کے گاؤں میت ابو الکوم میں انور سادات کے گھر میں سینئر عہدے داران کے ساتھ اجلاس ہو رہا تھا۔ اجلاس کے دوران سادات کے عزیزوں میں ایک سادہ سی دیہاتی خاتون صدر سے ملاقات کے لیے پہنچ گئی۔ سیکورٹی پر مامور محافظین نے صدر کی مصروفیت کے سبب اسے ملنے سے روک دیا۔ خاتون کے بے پناہ اصرار پر سیکورٹی چیف نے سادات کو مطلع کیا جنہوں نے حیرت انگیز طور پر خاتون کو اندر بلا لیا۔ اجلاس کے شرکاء کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ سادات خود اٹھ کر کمرے کے دروازے تک گئے اور ان خاتون کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے کر آئے۔ سادات نے حاضرین سے خاتون کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یہ میری خالہ کی بیٹی ہیں۔ انہوں نے مجھے کئی برس سے نہیں دیکھا اس لیے ملاقات کے لیے مصر تھیں۔

صدارتی طیارے کے کپتان نے سابق مرحوم صدر حسنی مبارک کے ساتھ اپنی پروازوں اور اسفار کے بارے میں بھی بعض یادیں بیان کیں۔ ابو بکر حامد کے مطابق حسنی مبارک فولادی یادداشت کے مالک تھے ، وہ چہرے اور نام نہیں بھولتے تھے۔ حسنی مبارک کے ساتھ پہلی پرواز کے موقع پر سابق صدر نے کہا "میں نے تم کو پہلے بھی دیکھا ہے ، تم کیپٹن ابو بکر ہو نا ؟ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟" میں نے جواب میں کہا کہ مجھے یہاں اہم شخصیات کی آمد و رفت کے سلسلے میں بطور پائلٹ ذمے داریاں انجام دینے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس پر مبارک نے کہا کہ تم ایک شان دار ہواباز ہو اور تم پر اعتماد کیا گیا ہے۔

میجر جنرل ابو بکر حامد کے مطابق حسنی مبارک ہر چیز میں باریک بینی سے کام لیا کرتے تھے۔ وہ وقت کے پابند انسان تھے۔ ابو بکر نے بتایا کہ انہوں نے مبارک کے ساتھ اندرون اور بیرون ملک متعدد سفر کیے۔ ایک بار بیلجیم کے بادشاہ کی وفات پر مبارک تعزیت کے لیے گئے۔ شام میں وہ بیلجیم پہنچے اور اگلی صبح واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ اس دوران صدر نے ایک لمحہ بھی نیند نہیں لی۔ قاہرہ واپس پہنچتے ہی انہوں نے کئی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ انہیں بہت راحت اور آرام مل گیا ہے۔ سابق صدر پیداواری منصوبوں کی شدید خواہش رکھتے تھے جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں۔

ابو بکر کے مطابق ایک مرتبہ اسیوط صوبے کا سفر طے تھا۔ تاہم موسم کی خرابی کے سبب پرواز تاخیر کا شکار ہو گئی۔ اس موقع پر حسنی مبارک نے ابو بکر سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی اور منزل کی طرف اڑان بھر لیں جب کہ انہوں نے اپنے محافظین کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ اڑان کے بعد مبارک نے کہا کہ طیارے کا رخ ایک سیاحتی شہر کی طرف کر دو تا کہ وہاں پر جاری مختلف منصوبوں کے کام کا جائزہ لیا جا سکے۔ وہاں پہنچ کر مبارک کو پیش رفت کی رفتار پسند نہ آئی اور وہ غم و غصے میں بھرے ہوئے واپس طیارے میں آئے۔ اس کے بعد انہوں نے طیارے کو اسیوط لے جانے کی ہدایت کی۔ وہاں بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا۔ پرواز کے دوران ہی سابق صدر نے دونوں صوبوں کے گورنروں سمیت بعض ذمے داران کی برطرفی کے فیصلے جاری کیے۔

سابق اسرائیلی صدر عائزرا وائزمین کے بارے میں میجر جنرل ابو بکر حامد کا کہنا ہے کہ وہ ایک مہذب اور سادہ مزاج آدمی تھے اور عربی روانی سے بولتے تھے۔ سفر کے دوران انہوں نے انور سادات اور حسنی مبارک کے متعلق بہت تعریفی باتیں کیں۔ انہوں نے امن کو یقینی بنانے اور جنگ کو روکے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے مقابل سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون ایک خود سر اور متکبر انسان تھے۔ وہ کسی سے مصافحہ نہیں کیا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ بھی انہوں نے گھمنڈ اور انا سے بھرپور رویہ اپنایا۔