.

عراق میں کاتیوشا راکٹ حملوں میں حزب اللہ کے ملوث ہونے کا شبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کی طرف سے ملک میں اسلحے کے غیرقانونی استعمال اور ریاستی رٹ کو نقصان پہنچانے کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے انکوائری کمیشن نے برہ راست تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ دوسری طرف یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عراق میں امریکی تنصیبات، سفارت خانوں اور سرکاری مراکز پر ہونے والے کاتیوشا راکٹ حملوں کے پیچھے عراقی حزب اللہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم الکاظمی کے قائم کردہ انکوائری کمیشن کی تحقیقات کے حوالے سے العربیہ اور الحدث چینلوں کو پتا چلا ہے کہ عراق میں کاتیوشا راکٹ حملوں کے پیچھے عراقی حزب اللہ کا ہاتھ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کی تیاری کے لیے 'جرف الصخر' کے مقام کا پتا چلا ہے۔ یہ ایک تزویراتی علاقہ ہے جسے حزب اللہ ملیشیا نے پہلے ہی نو گو ایریا بنا رکھا ہے۔

سنہ 2014ء کو جرف الصخر اہل سنت مسلک کے عرب باشندوں‌ کا مرکز تھا مگر اسے 'داعش' سے واپس لینے کے بعد عراقی حزب اللہ نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

حزب اللہ نے وہاں پر کسی عراقی سیکیورٹی ادارے کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے حزب اللہ کا محفوظ ٹھکانہ اور راکٹ سازی کامرکز قرار دیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ منگل کے روز عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے ملک میں ہونے والی قانون کی خلاف ورزیوں، اسلحہ کے غیرقانونی استعمال اور راکٹ حملوں‌ کی روک تھام کے لیے ایک کمیشن قائم کیا تھا۔

یہ کمیشن اپنے اہداف پر تیزی کے ساتھ کام کرتے ہوئے جلد ہی اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گا۔

حال ہی میں عراقی اور دوسرے ذرائع ابلاغ میں یہ خبر چھپی تھی کہ امریکا نے عراق کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے راکٹ حملوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کیے تو امریکا بغداد میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔