.

امریکا کی ایران کے18 بنکوں‌ پر نئی اقتصادی پابندیاں

انسانی امور سے متعلق سرگرمیاں متثنیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ایران پر پابندیوں کا مقصد دہشت گردی کی حمایت کے لیے اسے فنڈز سے محروم کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی جاری رکھی جائے گی۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کرونا کے انسداد کے لیے مختص فنڈز کو سپاہ پاسداران انقلاب کی جنگی سرگرمیوں پر صرف کر رہے ہیں۔ ایرانی عوام کی مشکلات کی وجہ موجودہ نظام ہے جو عوام کے پیسے کو بیرون ملک اپنے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران پرعاید کی گئی پابندیوں میں انسانی ضرورت کے بنیادی سامان کی فراہمی پر پابندی شامل نہیں۔

جمعرات کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو مزید بینکاری نظام سے الگ کرنے کی کوشش میں 18 ایرانی بنکوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایک ہفتہ قبل ایران پر پابندیوں‌ میں اضافہ کرنے کا اعلان کا اعلان کیا تھا۔

امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق امریکا ایرانی مالیاتی اداروں کو ایگزیکٹو آرڈر 13902میں شامل کرتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ "ایگزیکٹو آرڈر 13902 کے تحت عاید کردہ پابندی بنیادی ضروریات، زرعی اجناس ، خوراک ، ادویات یا طبی آلات پر لاگو نہیں ہوتی ہے۔

امریکی سکریٹری خزانہ اسٹیفن منوچن نے ایک بیان میں کہا کہ ہماری پابندیاں تب تک جاری رہیں گی جب تک ایران دہشت گردی کی سرگرمیوں کی حمایت کرنا بند نہیں کرتا ہے اور اپنے جوہری پروگراموں کو ختم نہیں کرتا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج کے اقدامات ایرانی عوام کی حمایت کے لیے انسانی ہمدردی کے عمل کو جاری رکھیں گے۔