.

سعودی نوجوان ناول نگار کے ناول 'شیطان اور انسان' کی دنیا میں‌ دھوم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک نوجوان ناول نگار نے طویل مشکلات کے بعد ایک آخر کار اپنی منزل پا لی۔ سعودی اسکالر کا سنہ 2013ء میں لکھا گیا ناول'انسان اور شیطان' بین الاقوامی شہرت کی بلندیوں‌ کو چھونے لگا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ سے بات کرتے ہوئے سعودی ناول نگار سلطان طاھر ایاز نے بتایا کہ اس نے ناول کی مقبولیت کے لیے متعدد عالمی پلیٹ فارم پر پیش کیا۔ سنہ 2017ء کو اسے سعودی عرب کی وزارت ثقافت و اطلاعات کی طرف سے مملکت میں شائع کرنے کی اجازت دی جس کے بعد اسے سعودی عرب اور بعض دوسرے خلیجی ملکوں میں شائع کیا گیا۔ مگر کتاب کی فروخت بہت کم تھی اور اسے کتاب کی مقبولیت کے حوالے سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اب اللہ کا شکر ہے۔

سلطان طاھر ایاز نے کہا کہ اب میں بہت خوش ہوں میں نے سوچا نہیں تھا کہ میرا لکھا گیا انگریزی اتنی مقبولیت حاصل کرپائے گا۔

اس نے بتایا کہ ناول کو دنیا تک پہنچانے کے میں نے لندن کے اولمپیا پبلشرز میں پیش کیا اور وہ اس ناول کو بین الاقوامی سطح پر چھاپنے اور شائع کرنے پر راضی ہوگئے۔ چنانچہ ان کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا۔

اس نے بتایا کہ میرا ناول ، جو پبلشر کی بین الاقوامی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ایک دن بڑی اہمیت کا حامل ہو جائے گا۔ اس طرح میرے اس ناول کی وجہ سے میرا شمار بھی سعودی عرب کے پہلے انگریزی ناول نگاروں میں ہونے لگا ہے۔

ناول کے موضوع کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ یہ ناول ایک خیالی تصور پرمبنی ہے۔ اس کے واقعات ایسی دنیا میں رونما ہوتے ہیں جو شیطانوں اور انسانوں کے مابین تصادم کی زد میں ہے۔ اس کے واقعات اس وقت شروع ہوتے ہیں جب (ڈریک) اپنے کنبے کے ساتھ اپنے چھوٹے سے گاؤں میں پرسکون زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس گاوں کی دنیا ایک لمحے میں اس وقت بدل جاتی ہے جب اس کے گاؤں پر راکشس فوج حملہ آور ہوتی ہے۔ وہ اس کو جلا دیتے ہیں اور اس میں موجود لوگوں کو مار دیتے ہیں لیکن ڈریک وحشت سے بچ جاتا ہے۔ اس کے بعد راکشسوں اور ڈریک کے درمیان طویل کشمکش رہتی ہے۔