.

ایران کے حوالے سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل جمعہ کو جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایرانی حکومت سے متعلق پالیسیوں پر معاہدے کے لیے امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے۔

العربیہ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کے روز برلن میں ایران اور وینزویلا کے لیے امریکی خصوصی نمائندے ایلیٹ ابرامس نے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے عہدیداروں سے بات چیت کی۔

مذاکرات میں ایرانی حکومت کو خطرناک فوجی ہتھیاروں کی فروخت کو روکنے اور گذشتہ سال نومبر کے مظاہروں کے دوران مظاہرین کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرانے کے علاوہ ایران کی طرف سے خطے کے ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں کی روک تھام اور ایران کو جوہری ہتھیاروں کےحصول سے روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر بات چیت کی گئی۔

جمعرات کوامریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو مزید بینکاری نظام سے الگ کرنے کی کوشش میں 18 ایرانی بینکوں پر پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا۔ ان پابندیوں‌کا مقصد امریکی انتخابات سے قبل ایران کوتنہا کرنے اور مزید دبائو ڈالنا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران پرعاید کی گئی پابندیوں میں انسانی ضرورت کے بنیادی سامان کی فراہمی پرپابندی شامل نہیں۔

جمعرات کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو مزید بینکاری نظام سے الگ کرنے کی کوشش میں 18 ایرانی بینکوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایک ہفتہ قبل ایران پر پابندیوں‌میں اضافہ کرنے کا اعلان کا اعلان کیا تھا۔

امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق امریکا ایرانی مالیاتی اداروں کو ایگزیکٹو آرڈر 13902میں شامل کرتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "ایگزیکٹو آرڈر 13902 کے تحت عاید کردہ پابندی بنیادی ضروریات، زرعی اجناس، خوراک، ادویات یا طبی آلات پر لاگو نہیں ہوتی ہے۔