.

جوزف بائیڈن کی صدارت سے کچھ فرق پڑنے کا نہیں:سروے میں فلسطینیوں کی رائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مقیم 35 فی صد فلسطینیوں کی رائے کے مطابق امریکا کی ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جوزف بائیڈن کی آیندہ ماہ منعقد ہونے والے انتخابات میں کامیابی کی صورت میں حالات مزید ابتر ہوجائیں گے جبکہ صرف 21 فی صد کو یقین ہے کہ جوبائیڈن کی صدارت میں امریکا کی پالیسی میں مثبت تبدیلی رونما ہوگی۔

انھوں نے اس رائے کا اظہار فلسطینی مرکز برائے پالیسی اور سروے ریسرچ (پی ایس آر) کے زیر اہتمام ستمبر میں منعقدہ رائے کے ایک جائزے میں کیا ہے۔اس سروے میں غربِ اردن اور غزہ سے تعلق رکھنے والے 1270 افراد سے سوالات پوچھے گئے تھے۔البتہ بیرون ملک مقیم فلسطینیوں سے امریکا کے صدارتی انتخابات سے متعلق رائے نہیں پوچھی گئی ہے۔

سروے میں 34 فی صد فلسطینیوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ امریکا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی رونما ہوگی۔ ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار جوزف بائیڈن اسرائیل کے فلسطینی سرزمین کو ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے کی مخالفت کرچکے ہیں۔انھوں نے اپنے حریف ری پبلکن صدارتی امیدوار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبہ کی مذمت کی تھی۔فلسطینی بھی اس کو اسرائیل نواز قرار دے کر مسترد کرچکے ہیں۔

تاہم جوزف بائیڈن یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ صدر منتخب ہوگئے تو امریکی سفارت خانہ کو مقبوضہ بیت المقدس (یروشلیم) ہی میں برقرار رکھیں گے۔صدر ٹرمپ نے مئی 2017ء میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلیم میں منتقل کیا تھا۔انھوں نے عالمی برادری کی مخالفت کرتے ہوئے یروشلیم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا متنازع فیصلہ کیا تھا۔

جو بائیڈن خود کو ’’صہیونی‘‘ قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے 2015ء میں اپنی ایک تقریرکا آغاز ان الفاظ سے کیا تھا:’’میرا نام جو بائیڈن ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ میں اسرائیل سے محبت کرتا ہوں‘‘۔

فلسطینی صدر محمود عباس اور ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار جوزف بائیڈن ۔ فائل تصویر
فلسطینی صدر محمود عباس اور ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار جوزف بائیڈن ۔ فائل تصویر

فلسطینی اتھارٹی ؛ ایک بوجھ

اس سروے کے شرکاء سے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گذشتہ ماہ طے شدہ امن معاہدے سمیت داخلی اور علاقائی سیاست کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔

62 فی صد فلسطینیوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ صدر محمودعباس کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔ قبل ازیں جون میں 58 فی صد فلسطینیوں نے ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ البتہ ایک تہائی سے بھی کم قریباً 31 فی صد فلسطینی صدر کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

سروے کے نتائج کے مطابق 62 فی صد فلسطینیوں کی رائے میں فلسطینی اتھارٹی ایک بوجھ ہے۔ محمودعباس گذشتہ 15 سال سے اس کے صدر چلے آرہے ہیں۔اتھارٹی غربِ اردن میں محدود سطح پر نظم ونسق چلا رہی ہے جبکہ غزہ کی پٹی میں اس کی حریف جماعت حماس نے 2007ء سے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے۔

53 فی صد فلسطینیوں کی رائے میں یو اے ای اوراسرائیل کے درمیان معمول کے تعلقات فلسطینی قیادت کے درمیان تقسیم اوراس کے اپنے فیصلہ کی بنیاد پر استوارکیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ مرحوم فلسطینی لیڈر یاسرعرفات نے 1993ءمیں معاہدہ اوسلو کے تحت ریاست اسرائیل کو تسلیم کیا تھا اور ان کے زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی معرض وجود میں آئی تھی۔