قطر میں ترک فوج کی موجودگی خطے میں عدم استحکام کا باعث ہے: قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ قطر میں ترک فوج کی موجودگی عرب خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں انور قرقاش نے کہا کہ قطر کے حالیہ دورے کے دوران ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ ترک فوج کی دوحا میں موجودگی خلیجی ملکوں میں امن واستحکام کے لیے ہے مگر ان کا یہ دعویٰ غلط ہے۔ ترکی کا علاقائی سطح پر کردار خلیجی ممالک کی پالیسیوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اس کے کئی ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ ترک صدر نے اپنے دورہ قطر کے اقتصادی اسباب سے توجہ ہٹانے کے لیے دوحا میں اپنی فوج کو عرب ممالک کے استحکام کا ذریعہ قرار دیا حالانکہ قطر میں ترک فوج کی موجودگی ہمارے خطے میں عدم استحکام کا باعث ہے۔

انور قرقاش نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک میں ترکی کی مداخلت نئی نہیں ہے۔ ترکی خطے میں اپنے ہم نوا ممالک کو اپنی زیر اثر لانا چاہتا ہے اور خطے کے ممالک کے وسائل پر اپنی بالادستی اور اجارہ داری کے قیام کا خواہاں‌ ہے۔

خیال ہے کہ حال ہی میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے قطر کا دورہ کیا تھا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں‌ نے کہا تھا کہ دوحا میں ترک فوج کی موجودگی خلیجی ممالک کے استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں قطر اور ترکی کے درمیان سیکیورٹی اور انٹیلی جنس شعبوں میں تعاون پر بھی بات کی۔

سنہ 2017ء کو ترکی اور قطر نے باہمی اتحاد کا ایک نیا محاذ قائم کیا جسے خطے میں 'سیاسی اسلام' کے علم برداروں کا اتحاد قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دونوں ممالک اخوان المسلمون اور دنیا بھر میں اخوان کے حامی گروپوں کی مدد کرنا ہے۔

اس کے علاوہ قطر نے ترکی میں صنعت، سیاحت اور بنکاری کے شعبے میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاریہ بھی کر رکھی ہے۔

ترکی نے سنہ 2014ء کو قطر کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت قطر میں ترک فوج کا ایک اڈاہ قائم کیا گیا۔ 10 فروری 2015ء کو ترک پارلیمنٹ نے قطر میں فوجی اڈے کے قیام کی منظوری دے دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں