لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری حدود کے تعین کے لیے مشاورت اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری حدود کے تعین کے لیے دونوں‌ ملکوں کے مندوبین کی امریکی حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

لبنان نے سمندری سرحدوں کی حد بندی کے سلسلے میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے جو وفد تشکیل دیا ہے اس نے جنوبی لبنان میں اگلے ہفتے کے وسط میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام دونوں فریقوں کے مابین بات چیت کے آغاز سے قبل مسلح افواج کے کمانڈر جنرل جوزف آون سے ملاقات کی۔

تقریبا 10 دن پہلے لبنان اور اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے جنوبی لبنان کے شہر الناقورا میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں ایک سمجھوتہ طے پایا ہے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملکوں‌کے درمیان سمندری حدود کے تعین کے لیے امریکا ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کرے گا۔ اس حوالے سے پہلی باضابطہ بات چیت آئندہ بدھ کو ہوگی۔

لبنانی فوج کے چار رکنی وفد نے پہلی سرکاری میٹنگ میں آرمڈ فورسز کے کمانڈر سے ملاقات کی۔

ہفتے کے روز لبنانی فوج نے اعلان کیا کہ جنرل جوزف عون نے سرحدوں کی حد بندی کرنے کے لیے مذاکرات کمیٹی کے سربراہ سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے سمندری سرحدوں کی نشاندہی کے مقصد کے ساتھ بحری سرحدوں کی نشاندہی کرنے کے لیے بنیادی ہدایات دی ہیں جو راس ناقورہ سے شروع ہوتی ہے۔

لبنانی وفد میں شامل چار ارکان میں دو فوجی اور دو سول عہدیدار شامل ہیں۔ فوجی افسران میں بریگیڈیئر جنرل بسام یاسین ، کرنل مازن بصبوص ،تکنیکی ماہر نجیب مسیح اور پیٹرولیم سیکٹر اتھارٹی کے سربراہ وسام شباط شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں