لبنان: کووِڈ-19 کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں اضافہ ، بار اور نائٹ کلب تاحکم ثانی بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان نے کرونا وائرس کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بار اور نائٹ کلب بند کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ لبنان میں اب تک اس مہلک وائرس سے ساڑھے چار سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

لبنانی وزارت داخلہ نے اتوار سے تاحکم ثانی بار اور نائٹ کلب بند کردیے ہیں اور 169 علاقوں اور دیہات میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے۔گذشتہ ہفتے وزارت داخلہ نے 111 دیہات اور علاقوں میں کریک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔

اس نے یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں رات ایک بجے سے صبح چھے بجے تک کرفیو نافذ رہے گا ۔اس نے ایک منفرد حکم بھی جاری کیا ہے۔اس کے تحت سفر کے دوران میں تمام مسافروں کو چہرے پر ماسک پہننا ہوگا۔دنیا میں کسی اور ملک میں مسافروں پر اس طرح کی پابندی عاید نہیں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ لبنان میں اب تک کرونا وائرس کے 52558 کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔ ان میں 455 مریض وفات پاچکے ہیں۔لبنان کی کل آبادی لگ بھگ 60 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔اس ننھے ملک میں گذشتہ چند روز سے کووِڈ-19 کے روزانہ ایک ہزار سے زیادہ کیس سامنے آرہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق لبنان میں اسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹوں کی کل گنجائش کے مقابلے میں 82 فی صد مریض داخل ہوچکے ہیں۔اس کی جیلوں میں بھی گنجائش سے زیادہ افراد قید ہیں جس کی وجہ سے کرونا وائرس جیلوں ، سرکاری اسپتالوں اور شہروں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

دوسری جانب ملک کو 1975-1990ء کی خانہ جنگی کے زمانے کے بعد بدترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔اس کے مالیاتی نظام کا گذشتہ برس سے شیرازہ بکھر چکا ہے۔کم وبیش 80 فی صد مالیاتی اداروں کا دیوالہ نکل چکا ہے اور بنکوں نے صارفین کے رقوم نکلوانے پر قدغنیں لگا رکھی ہیں۔4 اگست کو بیروت کی بندر گاہ پر تباہ کن دھماکے کے بعد سے لبنان کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔اس دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 200 افراد ہلاک اور 6000 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے اور بیروت کے ہزاروں مکین بے گھر ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں