.

شہزادہ بندر کے انٹرویو کا کوئی جواب نہ دیا جائے: فلسطینی وزارت خارجہ کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کی وزارت برائے خارجہ امور اور تارکینِ وطن نے ایک سرکلر جاری کیا ہے۔اس میں اس نے اپنے عملہ کو خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ بندر بن سلطان کے حالیہ انٹرویو کا کسی بھی انداز میں کوئی جواب نہ دیا جائے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارت خارجہ کے انڈ سیکریٹری احمد الدیک نے گذشتہ جمعہ کو یہ سرکلر جاری کیا تھا،اس میں سفیروں ، سفارت کاروں اور فلسطینی سفارت خانوں میں کام کرنے والے ملازمین کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ’’وہ وزیر خارجہ ریاض المالکی کے فیصلے کے مطابق شہزادہ بندر کے انٹرویو پر کوئی تبصرہ کریں اور نہ کوئی جواب دیں۔‘‘

العربیہ نے یہ غیرمصدقہ دستاویز ملاحظہ کی ہے۔اس میں فلسطینی حکام کو خبردار کیا گیا ہے کہ’’شہزادہ بندرکی ذات یا ان کی تاریخ ، سرگرمیوں ، ملازمت کی نوعیت یا ان کے بیانات کی وجوہ سے متعلق کسی قسم کے تبصرے سے گریز کیا جائے۔‘‘

فلسطین کی مقامی ’خبر پریس ایجنسی‘ کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ نے اس بات کا زور دیا ہے کہ شہزادہ بندر کے سعودی ملکیتی العربیہ ٹی وی چینل پرحالیہ بیانات کا کوئی تحریری جواب دیا جائے اور نہ ان سے متعلق کوئی اشارہ کیا جائے۔

اس سرکلر کے مطابق ’’جو کوئی بھی ان ہدایات کی کسی بھی حالت میں خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘

شہزادہ بندر کی فلسطینی قیادت پر تنقید

سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف اور امریکا میں سابق سفیر شہزادہ بندر بن سلطان نے العربیہ سے اس خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا ملک فلسطینی کاز کی حمایت کرتا ہے لیکن اس کے لیڈروں کی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’فلسطینی لیڈر سعودی عرب کی اپنے کاز کے لیے حمایت سے انکاری ہیں لیکن اس سے فلسطینی عوام کے نصب العین سے ہماری وابستگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا مگر ان لوگوں (فلسطینی لیڈروں) پر اعتماد کرنا مشکل ہے اور ان کے ہوتے ہوئے فلسطینی کاز کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

شہزادہ بندر نے کہا کہ فلسطینی نصب العین منصفانہ ہے لیکن اس کے لیڈر ناکامی کی ایک تاریخ کے حامل ہیں۔ان کا کہنا تھا:’’ فلسطینی کاز ایک جائز اور منصفانہ نصب العین ہے لیکن اس کے وکیل ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ اسرائیلی کاز ایک غیرمنصفانہ نصب العین ہے مگر اس کے وکیل کامیاب ٹھہرے ہیں۔گذشتہ 70 ، 75 سال کے دوران میں رونما ہونے والے واقعات کی یہ تاریخ ہے۔‘‘

انھوں نے اس ضمن میں سابق مفتیِ اعظم فلسطین مفتی امین الحسینی کی مثال سے آغاز کیا۔ وہ فلسطین پر برطانوی انتداب (1918ء سے 1948ء تک) کے دور میں فلسطینیوں کے قائد رہے تھے لیکن وہ نازی جرمنی کے حامی تھے۔چناں چہ جب دوسری عالمی جنگ میں نازی ازم شکست سے دوچار ہوا تو اس سے فلسطینیوں کی تحریکِ آزادی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’’فلسطینی قیادت تاریخی طور پر ناکام رہی ہے۔اس کی ناکامیوں کا یہ سفر ہنوز جاری ہے۔‘‘انھوں نے اس ضمن میں فلسطینی قیادت کی متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے ردِّ عمل میں خلیجی ریاستوں اور ان کی قیادت پر تنقید کا حوالہ دیا تھا۔

انھوں نے کہا:’’میں نے حالیہ دنوں میں فلسطینی قیادت سے جو کچھ سنا ہے، وہ فی الواقع بہت ہی تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے۔اس نچلی سطح کے بیانیے کی ہم ان عہدے داروں سے بالکل بھی توقع نہیں کرتے ہیں جو عالمی حمایت کے حصول کے خواہاں ہیں۔ان کا خلیجی ریاستوں کی قیادت کے بارے میں معاندانہ ناروا رویّہ بالکل ناقابل قبول ہے۔‘‘

صدر محمود عباس سمیت فلسطینی لیڈروں نے متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ گذشتہ ماہ طے شدہ امن معاہدے کو فلسطینی عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قراردیا تھا۔تاہم بعد میں محمود عباس نے خاموشی اختیار کر لی اور فلسطینی حکام کے عرب لیڈروں کے خلاف جارحانہ بیانات پر پابندی عاید کردی تھی۔

شہزادہ بندر اپنے اس انٹرویو یہ بھی واضح کیا تھا کہ فلسطینی قیادت کیسے تنازع کے حل میں ناکام رہی ہے اورمرحوم فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کی قیادت میں تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں واشنگٹن میں امن ڈیل کو طے کرنے میں ناکام رہی تھی اور اس نے ایک طرح سے سعودی عرب کو مایوس کیا تھا۔

انھوں نے بتایا تھا کہ کیسے یاسرعرفات نے 1993ء میں تو اوسلو معاہدے پر دست خط کر دیے تھے لیکن اس سے پہلے اس سے ملتے جلتے معاہدوں کو انھوں نے مسترد کردیا تھا اور اس کے بعد 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدے پر دست خط سے انکار کردیا تھا۔

شہزادہ بندر بن سلطان سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کے 2012ء سے 2014ء تک ڈائریکٹر جنرل رہے تھے۔وہ 2005ء سے 2015ء تک سعودی عرب کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ رہے تھے۔اس سے پہلے وہ مسلسل اکیس سال (1983ء سے 2005ء) تک واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر تعینات رہے تھے۔اس دوران میں برسراقتدار آنے والے امریکی صدور سے ان کے خصوصی مراسم استوار رہے تھے۔