.

عراقی ملیشیاوں کا راکٹ حملے روکنے کے بدلے حکومت سے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپوں نے وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی فوج کو ملک سے نکالیں ورنہ وہ راکٹ حملے جاری رکھیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق حکومتی دبائو کے بعد ایرانی حمایت یافتہ عراقی حزب اللہ نے مشروط طور پرعراق میں امریکی فوج اور امریکی مفادات پرحملے روکنے کا اعلان کیا تھا۔

عراق کی بعض دوسری تنظیموں نے بھی کہا ہے کہ اگر امریکا عراق سے اپنی فوج واپس بلانے کا ٹائم فریم دیتا ہے تو وہ راکٹ حملے روکنے کے لیے تیار ہیں۔

عراق کے ایک عسکری کمانڈر ابو علی نے 'ٹویٹر' پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ اگر الحشد الشعبی ملیشیا اور اس کے وفادار کسی بھی گروپ کو کسی بھی جانب سے حتیٰ کہ وزیراعظم کے ماتحت فورسز کے حملے کا سامنا کرنا پڑا توہم حکومت کے ساتھ حملے روکنے کے حوالے سے کیا گیا معاہدہ توڑ دیں گے۔

اگرچہ عراق کے عسکری گروپوں‌ کی طرف سے امریکی فوج کے انخلا کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی۔ عسکری گروپوں کی طرف سے الحشد الشعبی ملیشیا اور اس کے مفادات گروپوں کی طرف سے حملے نہ کرنے کی شرط عاید کی گئی ہے۔

عراق کے عسکری کمانڈر ابوعلی نے ٹویٹر پرلکھا کہ اگر عراق کی سرزمین پر ایرانی حمایت یافتہ گروپوں پرحملہ کیا گیا تو وہ حکومت کے ساتھ معاہدہ توڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔