.

اردن : الزرقا میں 16 سالہ لڑکے کے دونوں ہاتھ کاٹنے اورآنکھیں نکالنے کا لرزہ خیز واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے شہر الزرقا میں شقی القلب افراد کے ایک گینگ نے خاندانی رنجش پرایک سولہ سالہ لڑکے کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے ہیں اور دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی دونوں آنکھیں بھی نکال دی ہیں۔

منگل کے روز پیش +نے والے اس واقعے پراردن بھر میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور سوشل میڈیا پر شہریوں نے سفاکیت کا مظاہرہ کرنے والے ملزموں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس لڑکے کے ساتھ ملزموں نے اس کے والد کے جُرم کے بدلے میں اس گھناؤنے فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ اردن کی نظامت عامہ برائے پبلک سکیورٹی کے ترجمان کرنل عامر السرطاوی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس لڑکے کا اب زرقا کے سرکاری اسپتال میں علاج کیا جارہا ہے جہاں اس کی حالت تشویش ناک ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ملزمان اس لڑکے کو پکڑ کر ایک خالی جگہ پر لے گئے تھے، جہاں انھوں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سے نیچے تک تیز دھار آلے سے کاٹ دیا اور اس کی دونوں آنکھیں نکال دیں۔ پھر اس کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

اس اندوہ ناک واقعہ کی ویڈیو ایک حملہ آور نے خود ہی بنائی تھی اور اس کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا۔اس میں نوجوان لڑکا اپنے ساتھ ہونے والے ظلم پر چلّا رہا ہے اور مدد کے لیے پکار رہا ہے۔

اس واقعہ کے ایک عینی شاہد نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ایک حملہ آور نے اس نوجوان پر اپنے چچا کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے حملہ کیا تھا۔اس کے باپ نے اس کے چچا کو قتل کردیا تھا۔

متاثرہ لڑکے نے ایک آڈیو ریکارڈنگ میں بتایا ہے کہ دس افراد نے اس کو اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنے گھر سے روٹی لینے کے لیے جارہا تھا۔پھر اس کو مشرقی شہر زرقا کے ایک ویران علاقے میں لے گئے اوروہاں اس کے ساتھ سفاکیت کی داستان رقم کی ہے۔

اس نے کہا کہ’’ میرے ساتھ جو کچھ ہوا ہے،اللہ مجھے اس کو برداشت کرنے کی ہمت دے۔جب میں نے اغواکاروں کو دیکھا تو میں نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے پکڑنے میں کامیاب ہوگئے اور مشرقی شہر میں ایک مکان پر لے گئے جہاں انھوں نے قطع ید اور آنکھیں نکالنے کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔‘‘

اس نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا:’’انھوں نے میرے بازو ایک میز پر پھیلا دیے اور ان پر کلہاڑے سے کئی وار کیے،پھر انھوں نے تیز دھارآلے سے میری آنکھیں نکال دیں۔اس وقت میں اللہ اکبر، اللہ اکبر پکار رہا تھا۔‘‘

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے ذاتی طور پر حکام سے اس واقعے کی تمام تفصیل طلب کی ہے اور وہ خود اب قانونی کارروائی کی نگرانی کررہے ہیں۔پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے آپریشن کرکے اس گھناؤنے جرم میں ملوّث ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے۔سوشل میڈیا پر اس کو ’’زرقاکرائم‘‘ کے نام سے پکارا جا رہا ہے۔اس کی ویڈیو کی کثیرتعداد میں تشہیر کی گئی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔