.

رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں قطری معیشت 8 سال کی بدترین سطح پر

دوسری سہ ماہی میں معاشی خسارہ6.1 فی صد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا کی وبا اور کمپنیوں‌ کی بندش نے قطری معیشت کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ دوحا کے سرکاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ کمپنیوں کی بندش اور کرونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ قطر میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی‌ جس کے نتیجے میں قطری معیشت کو 2012ء کے بعد 8 سال میں بدترین صورت حال کا سامنا کرنا ہڑا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں قطری معیشت کو مجموعی طور پر 6.1 فیصد خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سال 2019ء میں اسی عرصے میں قطری معیشت میں 1 فیصد کمی ہوئی تھی۔

کرونا مخالف لاک ڈاؤن اقدامات کے نتیجے میں دوسری سہ ماہی کےدوران قطری معیشت کو سال 2012 کے بعد سے بدترین صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قطری منصوبہ بندی اور اعداد و شمار اتھارٹی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مستقل قیمتوں پر مبنی پہلی سہ ماہی کے مقابلہ میں دوسری سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی میں 6.4 فیصد کی کمی ہوئی۔

نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کی سرگرمیوں میں سالانہ بنیادوں پر تقریبا 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ رہائش اور خوراک کی خدمات میں 38.7 فیصد اور تھوک اور خوردہ تجارت اور گاڑیوں کی مرمت میں 30 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 11.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

مائع قدرتی گیس کا دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ قطر تیل اور گیس کے علاوہ دیگر شعبوں میں سیاحت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے معاشی وسائل کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

قطر مرکزی بینک نے اگست میں کہا تھا کہ اسے توقع ہے کہ اس سال معیشت توانائی کی کم قیمتوں اور کرونا وائرس بُحران سے گذشتہ سال 3 فیصد کمی واقع ہوئی تھی تاہم اس کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔