.

لبنانی صدر نے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت ملتوی کر دی

پارلیمنٹ کے اسپیکر کی طرف سے تاخیر کی مخالفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی ایوان صدر نے کل بُدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ صدر مشیل عون نے پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے مشاورت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ دوسری طرف لبنانی اسپیکر نبیہ بری نے وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے مشاورت ایک دن کے لیے بھی ملتوی کرنے کی مخالفت کی ہے۔

ایوان صدر نے مزید کہا کہ صدرعون نے جمعرات کو مشاورتی کا اجلاس طے کیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے اجلاس 22 اکتوبر تک ایک ہفتہ کے لئے ملتوی کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشاورتی اجلاس سیاسی جماعتوں کی درخواست پر ملتوی کیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے میں اختلافات پائے جا رہے ہیں جنہیں فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امل موومنٹ کے سربراہ نبیہ بری کے دفتر نے صدارتی اعلان کے چند منٹ بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ مشاورت کا عمل ایک دن کے لیے بھی ملتوی نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں توقع تھی کہ وہ حکومت بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے سنی رہ نما سعد حریری کی مدد کو متحرک کریں۔

تاہم پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران دو نامور مسیحی سیاستدانوں نے حریری کے انتخاب پر تحفظات کا اظہار کیا۔ بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد ایک سال قبل حریر نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

گذشتہ ایک سال سے لبنان شدید مالی بحران کا شکار ہوا اور لبنانی پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔