.

'شہد کی کٹیا' سعودی عرب میں دیہی سیاحت کے فروغ کا منفرد تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں مقامی اور دیہی سیاحت کے فروغ کے لیے ایک مقامی نوجوان کا منفرد تجربہ ذرائع ابلاغ اور سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک نوجوان سعودی ماہر تعمیرات انجینیر محمد الالمعی جس کا تعلق جنوب مغربی سعودی گورنری 'رجال الالمع' سے ہے نے بتایا کہ اس نے ''كوخ للعسل" کے نام سے دیہات میں دور دراز لکڑی اور پتھروں سے ایک کچا مکان تعمیر کیا۔ اس میں سیاحوں کو متوجہ کرنے اور ان کی سہولت کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔

اس نے بتایا کہ كوخاً للعسل کا مقصد بالعموم سعودی عرب بالخصوص رجال الالمع میں دیسی اور دیہی سیاحت کو فروغ دینا ہے۔
انجینیر محمد الالعمی نے بتایا کہ 10 مربع میٹر پر تعمیر کیے گئے اس مکان کی تعمیر میں لکڑی اور پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ مکان المعی گورنری اور دیہی ثقافت کا حسین امتزاج ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ جھونپڑی نما اس مکان میں‌اس نے المعی بیٹھک، ثقافتی بیٹھک، مہمانوں کے لیے قہوہ خانہ، دفتر، اس کے اوپر بیڈ روم بنایا گیا ہے۔ ریسٹ ہائوس کے اطراف میں شہد کے چھتوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گیسٹ ہاوس کے قیام کے بعد 2 ہزار سے زاید سیاح وہاں قیام کر چکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے یہ منصوبہ پانچ سال قبل شروع کیا تھا۔ وہ مقامی نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس نوعیت کے چھوٹے چھوٹے سیاحتی منصوبوں سے ماہانہ چھ ہزار ریال تک آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔