.

معاہدۂ ابراہیم:اسرائیل اورامریکا کے اعلیٰ سطح کے وفد کی رسمی تقریب کے لیے منامہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور امریکا کا اعلیٰ سطح کا وفد بحرین میں امن معاہدے کی رسمی تقریب میں شرکت کے لیے اتوار کے روز منامہ پہنچ گیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسٹوین نوشین اس وفد کی قیادت کررہے ہیں۔یہ وفد بحرینی حکام سے مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے بات چیت کرے گا اور اس کے بعد ایک تقریب میں بحرین اور اسرائیل کے درمیان مکمل سفارتی ، تجارتی اور کاروباری تعلقات استوار کرنے کے لیے مفاہمت کی مختلف یادداشتوں پر دست خط کیے جائیں گے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لائر ہیئت نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’آج یہ تاریخی دن ہے اور اس سے خطے میں امن ، خوش حالی اور استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز ہورہا ہے۔ہم اپنے امریکی دوستوں کے اس معاملے میں مدد کرنے پر شکرگزار ہیں۔‘‘

اسرائیل میں متعیّن امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈ مین اور اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ میر بن شبات بھی وفد میں شامل ہیں۔وہ اسرائیل کی فضائی کمپنی ایل آل کی ایک خصوصی تجارتی پرواز کے ذریعے بحرین پہنچے ہیں۔

اسرائیلی ، امریکی وفد کے بحرین کے اس دورے سے دو روز بعد منگل کو متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد کی اسرائیل میں آمد متوقع ہے۔

بحرین اور اسرائیل نے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس، واشنگٹن میں تاریخی امن معاہدے پر دست خط کیے تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہونے بہ نفس نفیس بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ طے پانے والے الگ الگ معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کے تھے جبکہ ان کے ساتھ اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید اور بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔

نیتن یاہو نے اس معاہدے کے بعد کہا تھا کہ ’’اسرائیل اور بحرین کے درمیان معمول کے تعلقات استوار ہونے کے بعد اب براہِ راست پروازیں چلائی جائیں گی اور دونوں ملکوں میں بہت جلد فضائی ٹریف بحال کردی جائے گی۔‘‘

اب تک اسرائیل کے چار عرب ممالک کے ساتھ تعلقات استوار ہوچکے ہیں۔ باقی دوممالک مصر اور اردن ہیں۔ان دونوں ملکوں سے اسرائیل کے بالترتیب 1979ء اور 1994ء میں امن معاہدے طے پائے تھے۔امریکی حکام کے مطابق بعض اور عرب ممالک بھی اسرائیل سے امن معاہدے طے کرنے کے لیے بات چیت کررہے ہیں لیکن ہنوز اسرائیل کا کسی اور عرب ملک سے ایسا کوئی اور امن معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔

بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے بعد میں العربیہ سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ اعلانِ امن سے علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے گا اور یہ اقوام کے باہمی رواداری اور بقائے باہمی سے رہنے کے پختہ عقیدے کا بھی مظہر ہے۔‘‘

امریکا ، بحرین اور اسرائیل نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھاکہ ’’مشرقِ اوسط میں قیام امن کے لیے یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ان دونوں متحرک معاشروں اور جدید معیشتوں کے درمیان براہ راست مکالمے اور تعلقات کا آغاز ہورہا ہے۔اس سے مشرقِ اوسط میں ایک مثبت تبدیلی رونما ہوگی اور خطے میں استحکام،سلامتی اور خوش حالی میں اضافہ ہوگا۔‘‘