.

ایران کو اسلحہ حصول کی آزادی عالمی امن کے لیے خطرہ قرار

سرکردہ فرانسیسی شخصیات کا ایران پر اسلحے کی پابندیوں میں توسیع کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کو اسلحے کی برآمد پر پابندی ختم ہونے کے بعد فرانسیسی وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور دانشوروں کے ایک گروپ نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تہران کو اسلحے کے حصول کی آزادی فراہم کرنے کو ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی قرار دیا ہے۔

فرانسیسی اخبار لے موند نے متنبہ کیا ہے کہ ایران پر اسلحہ کی پابندی ختم کرنے سے بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ایران پر اسلحہ کی پابندی ختم کرنا ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی ہو گی۔

لے موند فورم کے دوران جس میں سابق پارلیمنٹیرینز، وزراء اور حکومتی عہدیداران بشمول برنارڈ کازینوف اور ڈینیئل کوہن بینڈیت شامل تھے نے عالمی امن کو محفوظ رکھنے کے لیے ایران پر پابندیوں کی تجدید کا مطالبہ کیا۔

فرانسیسی شخصیات کا کہنا ہے کہ تہران پر اسلحے کے پابندی کو ختم کرنے سے مشرق وسطیٰ اور برصغیر پاک وہند پر بھی خطرناک سفارتی، سلامتی اور معاشی اثرات مرتب ہوں‌ گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو اسلحہ کے حصول کی آزادی سے مشرق وسطی میں دشمنی اور تنازعات بھڑکانے کا باعث بنے گی اور خطے میں عدم استحکام کی ایک نئی لہر آئے گی۔ پہلے سے بحرانوں کا شکار عراق، شام، یمن اور لبنان میں‌ کشیدگی میں اور بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

اخبار نے کہا ہے کہ ایران کو اسلحہ کے حصول کی اجازت دینا جیو اسٹریٹجک ، نظریاتی ، مذہبی اور معاشی عوامل کے باعث پیدا ہونے والے تنازعاتکو تقویت ملے گی۔

گذشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ایران کو اسلحہ کی فراہمی میں مدد کرنے اور اس کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کرنے والوں کو امریکی پابندیوں کا سامناکرنا پڑے گا۔