یمن: قتل کی جھوٹی خبر پر زندہ جنگجو کی بیوی اس کے بھائی سے بیاہ دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کی آئینی حکومت اور ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان اقوام متحدہ کی زیرنگرانی قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت حال ہی میں رہا ہونے والے ایک جنگجو کو اس وقت حیرت اور صدمے کا سامنا کرنا پڑا جب اسے پتا چلا کہ اس کے اہل خانہ نے اسے مردہ قرار دے کر اس کی بیوی اس کے ایک بھائی سے بیاہ دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق یہ واقعہ 28 سالہ ھائل عبداللہ حسین محمد طلان نامی ایک ایک حوثی جنگجو کے ساتھ پیش آیا جو سنہ 2017ء کو حجہ گورنری کے وشحہ ڈاریکٹوریٹ میں لڑائی کے دوران یمنی فوج کے قبضے میں آ گیا تھا۔

حوثی باغیوں‌ نے یہ مشہور کردیا تھا کہ عبداللہ محمد طلان لڑائی میں مارا گیا ہے۔ اس کے بعد اس کے خاندان کے دیگر افراد نے اس کی بیوی اس کے ایک دوسرے بھائی کے ساتھ بیاہ دی۔ دوسرا بھائی بھی حوثیوں کی صفوں میں شامل ہے۔

یمن میں قومی کمیشن نے اس واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے۔ کمیشن کے رکن قانون دان ھادی وردان نے بتایا کہ جب حوثی جنگجو ھائل طلان صنعا پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ اس کے مارے جانےکی خبر کے بعد اس کی بیوی اس کےایک دوسرے بھائی کے ساتھ بیاہ دی گئی ہے۔

اہل خانہ نے بتایا کہ حوثیوں‌کی طرف سے انہیں‌ بتایا گیا تھا کہ حجہ گورنری میں میدی کے مقام پر عرب اتحادی فوج کے طیاروں کی بمباری میں طلان ہلاک ہوچکا ہے۔

وردان کا کہنا ہے کہ یمنی فوج کی طرف سے رہائی پانے والے کئی حوثی جنگجووں کو حوثیوں‌نے حراست میں لے رکھا ہے اور ان سے یمنی فوج کے لیے جاسوسی کے شبے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے اپنے ہی جنگجوئوں کی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ ان پر ان کی بیویوں کی چپکے سے شادیاں کرانے اور بچوں‌ کو جنگ کے لیے بھرتی کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی زندہ جنگجو کو مردہ قرار دے کر اس کی بیوی کی کسی اور کے ساتھ شادی کی گئی ہو۔ نومبر 2019ء کو ایسا ہی ایک واقعہ پیش آچکا ہے۔ ایک حوثی جنگجو عبداللہ محمد عبداللہ المثنیٰ کو قیدیوں کے تبادلے کے تحت ایک ہوائی جہاز کے ذریعے سعودی عرب سے صنعا پہنچایا گیا۔ وہ یہ جان کرحیران رہ گیا کہ اس کی بیوی کسی اور شخص کے ساتھ بیاہ دی گئی ہے اور اس کے ساس کا ایک بچہ بھی ہے۔ حالانکہ عبداللہ المثنیٰ‌ کے اہل خانہ کو حوثیوں کی طرف سے ایک مقتول جنگجو کی لاش بھی دی گئی جو ان کے بہ قول المثنیٰ کی لاش تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں