.

’’داعش کی سعودی شہریوں و تیل کی تنصیبات پر حملوں کی دھمکی قابل مذمت ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت نے دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کی جانب سے سعودی شخصیات اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے مطالبے کی شدید مذمت کی ہے۔

داعش کے ایک ترجمان نے خطے میں موجود اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سعودی عرب میں موجود غیر ملکی شہریوں، تیل کی تنصیبات اور اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے پریس کانفرنس کے دوران کہا "ہم داعش کی جانب سے سعودی عرب میں تنصیبات یا نمایاں شخصیات کو نشانہ بنانے کے مطالبے کی مذمت کرتے ہیں اور سعودی عرب اور عالمی اتحاد کے ساتھ مل کر داعش کے منفی عزائم کو شکست دیں گے۔"

داعش کے ترجمان ابو حمزہ المہاجر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کی پروازوں کو فضائی حدود کی اجازت دے کر اسرائیل سے تعلقات کے قیام کی حمایت کی ہے۔ ابو حمزہ نے خطے میں موجود اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ سعودی عرب کو نشانہ بنائیں۔شدت پسند تنظیم کے ترجمان نے خاص طور پر تیل تنصیبات، فیکٹریوں اور دیگر صنعتی املاک کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

داعش کی جانب سے یہ دھمکیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خلیجی ریاستوں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لئے ہیں۔

اس موقع پر سعودی عرب نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا ہے

گذشتہ ماہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے سعودی عرب کے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اصولی موقف پر ثابت قدم رہنے کا اعادہ کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ ریاض مسئلہ فلسطین سے کنارہ کشی اختیار نہیں کر سکتا۔