.

شام : حلب کے دیہی علاقوں میں کرد فورسز کے ٹھکانوں پر ترکی کی نئی بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے شمالی حلب کے دیہی علاقے میں کرد فورسز کے زیر نفوذ علاقوں پر ترکی کی جانب سے بم باری کی نئی کارروائی کی تصدیق کی ہے۔

المرصد کے مطابق ترکی کی جانب سے 20 سے راکٹ گرینیڈز داغے گئے جن میں ام حوش اور ام حربل کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ المرصد نے بتایا کہ ترکی کی بم باری میں جانی نقصان کے بارے میں خبر موصول نہیں ہوئی۔

رواں ہفتے کے آغاز پر المرصد نے بتایا تھا کہ شمالی حماہ کے دیہی علاقے میں تعینات ترکی کی فوج نے علاقے سے انخلا کی تیاری کے سلسلے میں اپنے ساز و سامان کو کھولنا شروع کر دیا۔

ترکی کی فوج تقریبا ڈھائی برس سے مورک میں موجود ہے۔ یہ مقام شامی سرکاری افواج کے زیر کنٹرول علاقے میں واقع ہے۔

یاد رہے کہ مورک میں ترکی کی فوجی چیک پوائنٹ کا مشن فائر بندی کی نگرانی کرنا تھا۔ تاہم وہ گذشتہ چند ماہ کے دوران شامی حکومت اور روس کی افواج کی پیش قدمی اور شمالی حماہ کے دیہی علاقے پر مکمل کنٹرول کا خاموشی سے نظارہ کرتی رہی۔ اس طرح مورک بھی شامی حکومت کی فوج کے زیر نفوذ آ گیا۔