.

ایران کا تیل کے بدلے میں نقد رقوم کے بجائے سامان درآمد کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے دوسرے ممالک سے تیل کے بدلے میں‌ سامان کی خریداری کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق ایرانی وزیر برائے پٹرولیم اور مرکزی بینک کے گورنر نے غیر ملکی تجارت کی بحالی کی امید ظاہر کرتے ہوئے تیل کی مصنوعات کےعوض دوسرے ملکوں سے سامان اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کے روز ایرانی وزیر تیل بیجن زنکنہ نے وزیر صنعت و زراعت اور سنٹرل بینک کے گورنر کے ساتھ مشترکہ ملاقات میں کہا کہ امید ہے کہ تیل کی برآمد کے بدلے سامان درآمد کرنے سے ایران اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہو گا۔

ایرانی طلباء ایجنسی "ایسنا" نے زنکنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یہ تجویز وزارت تیل کی جانب سے پیش کی گئی تھی اور ایرانی صدر نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ اگلے ہفتے اس پر کام شروع کیا جائے گا۔ ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہمتی نے اعلان کیا کہ ملک کو درکار سامان کی فراہمی جس میں ملک کو بنیادی سامان اور پیداوار کے شعبے کو درکار خام مال بھی شامل ہیں کا حصول ترجیح ہے۔

ہمتی نے دعویٰ کیا کہ امریکی پابندیوں سے نمٹنے اور غیر ملکی تجارت کو فروغ دینے کے لیے تیل کے بدلے میں سامان ایک بہتر متبادل آپشن ہے۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ ہفتے ایرانی اخبار "جہاں صنعت" نے اطلاع دی تھی کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے نتیجے میں مختلف ممالک میں ایران کے 40 ارب ڈالر کی رقم منجمد ہو گئی ہے۔

اخبار نے جمعرات کو ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ فنڈز چین میں 20 ارب ڈالر ، بھارت میں 7 ارب ڈالر ، جنوبی کوریا میں 6 ارب ، عراق 2 ارب ڈالر ، اور جاپان میں 1.5ارب ڈالر کی رقم منجمد ہو چکی ہے۔

ایرانی وزارت صنعت کے سابق انڈر سیکرٹری حسین مدرس خیابانی نے گذشتہ اگست میں کہا تھا کہ ایرانی حکومت پرانے طریقے استعمال کرنے پر مجبور ہے ، جیسے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت میں سامان کے بدلے سامان کا حصول کا طریقہ ہے۔

امریکی پابندیوں کے دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے خیا بانی نے بتایا کہ بارٹر جیسے طریقوں کا استعمال دنیا بھر کے بہت سارے تاجروں کے لیے ناقابل یقین اور ناقابل تصور چیز ہے۔