.

سوڈان، حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے گا

خرطوم لبنانی ملیشیا کے خلاف یہ اقدام اسرائیل۔امریکا معاہدے کے تحت کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر رضا مندی ظاہر کر دی۔ خرطوم نے یہ اقدام اسرائیل سے اپنے تعلقات کو نارملائز کرنے کی خاطر طے پانے والے حالیہ معاہدے کی شرط کے طور پر اٹھایا ہے۔

امریکا اور سوڈان کے مشترکہ بیان کے مطابق ’’طویل عرصہ وحشیانہ آمریت کے سائے تلے گذارنے کے بعد سوڈانی عوام میں معاملات اپنے ہاتھ میں لیے ہیں۔‘‘

حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا معاہدے میں کوئی ذکر نہیں تھا، تاہم اعلیٰ امریکی عہدیدار نے العربیہ انگلش سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ سوڈان نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے جا رہا ہے۔

یہ بات واضح نہیں ہو سکی آیا یہ مطالبہ کسی اور عرب کی جانب سے بھی کیا گیا یا پھر حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دلوانے کا فیصلہ صرف اسرائیل اور امریکا کے ایما پر کیا جا رہا ہے۔

جمعہ کے روز کسی دوسرے ملک میں امریکی فوجیوں کے خلاف ہلاکت خیز حملے کے 37 برس مکمل ہو گئے۔ 23 ستمبر1983 کو امریکی میزینز کی بیروت میں فوجی بیرکوں پر خودکش حملے میں 241 امریکی ہلاک ہوئے تھے۔

آج بروز جمعہ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اعلان میں بتایا کہ اسرائیل اور سوڈان اپنے تعلقات معمول پر لانے سے متعلق دور رس نتائج کے حامل اقدامات اٹھانے جا رہے ہیں۔ دو خلیجی ریاستوں کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد یہ اہم سنگ میل ہے۔

دہشت گردوں کے سرپرست ملکوں کی فہرست سے سوڈان کا نام نکالنے کی کارروائی کے بعد اخبار نویسوں کو اوول آفس لے جایا گیا جہاں وہ اسرائیل اور سوڈان کے رہنماؤں سے بات چیت کر رہے تھے۔

سوڈان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں خرطوم کو اسرائیل سے ٹیکنالوجی اور زراعت کے شعبوں میں خصوصی امداد اور سرمایہ کاری ملے گی۔ نیز سوڈان کو قرضہ کے بوجھ سے نکلنے میں بھی امریکا اور اسرائیل خرطوم کی مدد کریں گے۔

واضح رہے کہ سوڈان پر ان عنایات کی بارش ایک ایسے موقع پر ہو رہی جب اس کی عبوری حکومت انتہائی دگرگوں صورتحال سے گذر رہی ہے۔ دارلحکومت سمیت ملک کے دوسرے حصوں میں معاشی ابتری کے خلاف عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔