.

ایران کی ’خطرناک سرگرمیوں‘ کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی مدد کے خلاف کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم "فنانشل ایکشن ٹاسک فورس" (FATF) جمعے کے روز اس فنڈنگ کی نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے معیار میں ترمیم پر آمادہ ہو گیا جس کا مقصد امریکا اور اقوام متحدہ کی پابندیوں سے فرار حاصل کرنا اور وسیع تباہی کے ہتھیاروں کو پھیلانا ہے۔ یہ بات امریکی وزارت خزانہ کے بیان میں بتائی گئی ہے۔

بیان میں وزارت خزانہ نے مزید بتایا کہ ٹاسک فورس کا گذشتہ ہفتے منظور کیا جانے والا فیصلہ مذکورہ نوعیت کے ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر روک لگانے کی عالمی کوششوں کو تقویت دے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا اور ایران نے پیچیدہ اور مستحکم نیٹ ورکس قائم کر رکھے ہیں جن میں فرضی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ فرضی کمپنیاں ان متعدد ممالک میں قائم کی گئیں جو FATF کے رکن ہیں۔ ان کے قیام کا مقصد اقوام متحدہ اور امریکا کی پابندیوں سے فرار اور ان ایران اور شمالی کوریا کے خطر ناک اہداف کی مضبوطی کے لیے مالی رقوم کی منتقلی ہے۔

واشنگٹن نے 2018-2019 میں ایف اے ٹی ایف کی صدارت سنبھالتے ہی ان ترامیم کے واسطے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ تنظیم کی صدارت اس وقت جرمنی کے پاس ہے۔ ایف اے ٹی ایف تنظیم 1989ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس میں 37 رکن ممالک اور دو علاقائی تنظیمیں شامل ہیں۔ یہ تنظیمیں یورپی کمیشن اور خلیج تعاون کونسل ہے۔