.

ترکی نے لیبیا کے دھڑوں میں طے پایا جنگ بندی معاہدہ توڑ ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کے وفادار فوجیوں‌ کو ٹریننگ کا عمل دوبارہ شروع کرکے لیبیا کے متحارب دھڑوں میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی طے پانے والے جنگ بندی توڑ ڈالی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق جنیوا میں جنگ بندی معاہدے کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر اندر ترک وزارت دفاع کی طر ف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انقرہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے ساتھ طے پائے معاہدے کے تحت قومی وفاق کی وفادار فوج کو عسکرتی تربیت فراہم کرنے کا پابند ہے۔ ترکی کی طرف سے لیبیا میں حکومت نواز ملیشیاوں‌ کی تربیت جنگ بندی معاہدے کی دوسری شوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

خیال رہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائزالسراج کے درمیان گذشتہ برس نومبر میں ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ متنازع دفاعی معاہدے میں ترکی نے قومی وفاق حکومت کی وفادار فوج کو تربیت دینے اور اسلحہ کی فراہمی سمیت کئی دہگر شعبوں میں تعاون کا یقین دلایا تھا۔

جنگ بندی معاہدے کے دوسری شق میں کہا گیا ہے کہ لیبیا میں غیرملکی فوجی ٹرینروں کی نگرانی میں ہونے والی فوجی تربیت کا سلسلہ معطل کیا جائے گا اور تمام غیرملکی فوجی مشیر اور جنگجو 90 دن کے اندر اندر ملک سے نکال دیے جائیں گے۔ اس کے بعد قومی حکومت کی دوبارہ تشکیل عمل میں لائی جائے گی جو اپنی مرضی کے مطابق فوجیوں کی تربیت کے لیے فیصلے کرے گی۔

لیبیا میں ترکی کی فوجی مداخلت کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ترک عسکری مشیروں کو قومی وفاق حکومت کے وفادار جنگجووں اور ملیشیاوں کی تربیت پر مامور کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کو لیبیا کے متحارب فریقین کے درمیان جنیوا میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا۔