.

خمینی کے حق میں نعرے نہ لگانے پرحوثی ملیشیا نے مسجد کوآگ لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ کے روز یمن میں حوثی باغیوں نے ذمار گورنری میں جھران ڈاریکٹوریٹ میں نمازیوں کی جانب سے ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ علی خمینی کے حق میں نعرے نہ لگانے پرمسجد کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں نہ صرف مسجد شہید ہوگئی بلک مسجد شریف میں موجود قرآن پاک کے دسیوں نسخے بھی جل کر راکھ ہوگئے۔

حوثیوں کی طرف سے یہ اشتعال انگیزی اس وقت کی گئی جب مسجد کے امام سے نمازیوں‌سے خمینی کے حق میں نعرے لگانے کو کہا۔ نمازیوں نے ایران نواز ملیشیا کے عناصر کے کہنے پرنعرے لگانے سے انکار کردیا تو باغیوں‌نے مسجد ہی کو آگ لگا دی۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والی مسجد میں قرآن پاک کے 100 نسخے اور دیگر دینی کتب جل گئیں۔ یہ واقعہ جھران ڈاریکٹوریٹ میں حقار کے مقام پر پیش آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی لیڈر شملان کے حکم پر مسجد کو آگ لگا گئی اور نمازیوں کو بھی نعرے نہ لگانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

حوثی لیڈر نے نمازیوں سے کہا کہ اگر انہوں‌نے خمینی کے حق میں نعرے بازی نہ کی تو وہ مسجد کو آگ لگا دیں گے۔