.

عراق : بغداد اور جنوبی صوبوں میں ہزاروں افراد احتجاجی مظاہروں کی یاد میں سڑکوں پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں آج اتوار کے روز دارالحکومت بغداد میں سیکورٹی الرٹ کے بیچ ہزاروں افراد کھلے میدانوں میں جمع ہو گئے۔ بعد ازاں اسی طرح کی صورت حال ملک کے جنوبی علاقوں میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔

عراق کے جنوبی صوبوں میں مظاہروں کا آغاز گذشتہ برس یکم اکتوبر کے احتجاج کا ایک سال پورا ہونے کے حوالے سے ہوا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بدعنوان عناصر کا احتساب کیا جائے، آزاد انتخابات کرائے جائیں اور ایک خود مختار کمیشن کا چناؤ عمل میں لایا جائے۔

عراق کے نو جنوبی صوبوں میں مظاہرین ہاتھوں میں عراقی پرچموں کو تھام کر سڑکوں پر نکلے۔ ان صوبوں میں بصرہ، ناصریہ اور نجف نمایاں ترین ہیں۔ اس موقع پر حکام کی جانب سے سیکورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔

ادھر مسلح افواج کے کمانڈر کے ترجمان یحیی رسول نے احتجاجی ریلیوں میں شریک افراد پر زور دیا ہے کہ وہ بغداد میں تحریر اسکوائر کی حدود سے باہر مظاہرے نہ کریں، سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشتبہ صورت حال کی فوری طور پر اطلاع دیں۔ اس کے علاوہ مظاہرین سے تعلق رکھنے کا دعوی کرنے والے عناصر کو سیکورٹی فورسز پر حملہ نہ کرنے دیں۔ یہ فورسز عوام کی حفاظت کے واسطے موجود ہیں۔ ترجمان کے مطابق سیکورٹی اداروں کو سختی سے ہدایات دی گئی ہیں کہ سرکاری اور نجی املاک، سیکورٹی اداروں کے اہل کاروں اور مظاہرین پر حملہ کرنے والے ہر فرد کے خلاف مطلوبہ قانونی اقدامات کیے جائیں۔

Iraq

دوسری جانب عراقی دارالحکومت بغداد میں قانون کی حفاظت کرنے والی فورسز کے کمانڈر میجر جنرل جواد الدراجی نے العلاوی کے علاقے میں ہنگامہ آرائی کے انسداد کی فورسز کو ہدایات دے دی ہیں۔ انہوں نے اپنی فورسز پر واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی سیکورٹی اہل کار پر حملے کی صورت میں وہ اپنی قیادت کی جانب سے احکامات کا انتظار کیے بغیر قانون اور ضابطے میں رہتے ہوئے فوری طور پر جوابی کارروائی کرے۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر سے عراق میں مختلف صوبوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ پھیل گیا۔ اس دوران بہت سی پرتشدد کارروائیاں بھی سامنے آئیں جن کے نتیجے میں 600 کے قریب مظاہرین پانی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے علاوہ سیکڑوں مظاہرین کو تشدد اور اغوا کی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

بہت سے سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان کو بعض جماعتوں کے ہمنوا مسلح گروپوں اور عناصر کی جانب سے ڈرانے اور دھمکانے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔