.

عربی رسم الخط کے سال میں سعودی عرب میں کیا کچھ ہوا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عربی رسم الخط کو عرب تہذیب کے حسن و جمال کی ایک صورت شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا فن ہے جس نے عربی بولنے والے اور نہ بولنے والے دونوں طرح کے لوگوں کی توجہ سے اپنا دامن بھرا ہے۔

سعودی وزارت ثقافت کی نمائندگی کرتے ہوئے مملکت کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے سال 2020ء کو عربی رسم الخط کا سال قرار دیا تھا۔ اس سلسلے میں مملکت کے تمام علاقوں میں خصوصی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

عربی رسم الخط کے سال کے دوران ممکنہ طور پر نمایاں ترین اقدام مدینہ منورہ میں قائم کردہ 'دارالقلم' مرکز کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے نام سے موسوم کیا جانا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سعودی ولی عہد کی جانب سے عربی رسم الخط کی ترویج واشاعت، فن اور فن کاروں کی بھرپور پذیرائی کی کوششوں کا اعتراف کرنا ہے۔ ساتھ ہی خطاطی اور دنیا کے مختلف ممالک کے خطاطوں کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ مدینہ منورہ عربی رسم الخط کی تاریخ میں ایک اہم مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کریم اور احادیث نبوی کی تدوین کے بعد عربی کتابت نے ایک مختلف موڑ لیا۔

عربی رسم الخط کا سال شروع ہونے کے بعد سے ریاض اور جدہ سمیت متعدد شہروں میں اداروں اور انفرادی سطح پر سرگرمیوں اور منصوبے نمایاں طور پر سامنے آئے۔ اس دوران عربی خطاطی کو دیواروں اور عوامی مقامات کی تزئین و آرائش کے واسطے استعمال میں لایا گیا۔

اس سلسلے میں وزارت ثقافت نے جدہ ، ریاض اور الخبر میں متعدد فن کاروں کے تعاون سے "جداری عربی خطاطی" کا پروگرام متعارف کرایا۔ اس کا مقصد عربی خطاطی اور مصوری کو ضم کر کے مختلف تنصیبات کو جمال سے نوازنا تھا۔

سعودی وزارت ثقافت نے غلافِ کعبہ یعنی کِسوہ پر ہونے والی عربی زبان کی خطاطی پر روشنی ڈالی۔ یہ عربی رسم الخط کا ایک اہم ترین اور مشہور ترین استعمال ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ ہونے کے لحاظ سے خانہ کعبہ سب سے بڑی معنوی قدر و منزلت کا حامل مقام ہے۔

رواں سال کرونا وائرس کی وبا پھیل جانے کے دوران ہی فاصلاتی تعلیم کے متعدد پلیٹ فارمز کا آغاز ہوا۔ ان میں "الخطاط" کے نام سے پلیٹ فارم بھی شامل ہے۔ یہ فاصلاتی تعلیم کے ذریعے عربی خطاطی سیکھنے کے واسطے پہلا مربوط برقی پلیٹ فارم ہے۔ اس کے نگراں اور ذمے داران خطاطی کے ماہر افراد ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے عربی خطاطی اور رسم الخط سے متعلق مختلف فنون سکھائے جاتے ہیں۔

اس حوالے سے وزارت ثقافت کے آخری منصوبے کے سلسلے میں کھیلوں کی وزارت کے تعاون سے کلب فٹبال لیگ کے کھلاڑیوں کی قمیضوں پر ان کے ناموں کو انگریزی کے بجائے عربی میں لکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سعودی عرب میں اس خوب صورت اور تاریخی فن کی اہمیت اور قدر و منزلت کو دیکھتے ہوئے عربی رسم الخط کا عرصہ مزید ایک سال بڑھا دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد وزارت ثقافت کی منصوبہ بندی میں شامل تمام تمام منصوبوں پر مؤثر طور پر عمل درامد کو یقینی بنانا ہ