.

مفادات یا نظریہ ... اسرائیل کے حوالے سے سوڈان کا نقطہ نظر کیا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوڈان کے نقطہ نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ "خارجہ پالیسی فقط مفادات کی بنیاد پر اپنائی جاتی ہے، جماعتی نظریات کو اس کا تعین نہیں کرنا چاہیے"۔

سوڈان کے وزیر انصاف نصر الدین عبد الباری نے گذشتہ روز واضح کیا تھا کہ حکومت خارجہ تعلقات سے متعلق بڑے فیصلے کرنے کا سیاسی اختیار رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ سوڈانیوں کے واسطے قلیل المیعاد اور طویل المیعاد میں بہت سے فائدے سامنے لائے گا۔ خرطوم اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کا قیام کسی بھی دوسرے ملک کے لیے ضرر کا باعث نہیں بنے گا۔

گذشتہ صدی میں 1960ء کی دہائی سے سوڈان تین "نہیں" (اسرائیل کو تسلیم کرنا نہیں، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات نہیں اور اسرائیل کے ساتھ امن نہیں) کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا تھا۔ حالیہ فیصلے نے متعدد اقتصادی مسائل میں ڈوبے ہوئے ملک سوڈان کو ملکی مفادات کی تلاش کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ ساتھ ہی اس فیصلے نے سوڈانی عوام اور ملک میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان کسی حد تک تنازع بھی پیدا کر دیا ہے۔

سوڈانی کانگریس پارٹی نے اسرائیل کے ساتھ عداوت کی حالت کے خاتمے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتا سوڈان کو دوبارہ سے عالمی برادری میں ضم کر دے گا۔ اس طرح بین الاقوامی سطح پر ملک کی تنہائی ختم ہو گی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ کام کر کے ملکی قرضوں کا بوجھ کم کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔

دوسری جانب بعض سیاسی جماعتوں اور گروپوں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں National Consensus Forces کا اتحاد شامل ہے۔ اسی طرح سوڈانی پیپلز کانگرس پارٹی نے بھی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ یہ ایک اسلام پسند گروپ ہے جو معزول صدر عمر البشیر کی حمایت کرتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر الصادق المہدی نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر عمل جاری رکھا تو ان کی جماعت حزب الامّہ حکومت کے لیے اپنی حمایت ختم کردے گی۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا معاملہ سوڈان میں حساس نوعیت کا شمار ہوتا ہے اور خرطوم ماضی میں اس صہیونی ریاست پر کڑی تنقید کرتا رہا ہے۔ اس سلسلے میں عسکری قیادت اور شہریوں کی آراء تقسیم ہیں۔

یاد رہے کہ سوڈان اور اسرائیل کے درمیان سمجھوتا جمعے کے روز ٹیلی فونک رابطے میں طے پایا۔ یہ رابطہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سوڈان کی عبوری حکومت کے رہ نماؤں کے درمیان ہوا۔

اس رابطے کے ذریعے سوڈان تیسرا عرب ملک بننے جا رہا ہے جس نے رواں سال اسرائیل کے ساتھ عداوت سے سبک دوشی اختیار کی۔ اگرچہ بعض سوڈانی ذمے داران کا کہنا ہے کہ عبوری پارلیمںٹ کی جانب سے اس معاہدے کی منظوری دی جانی چاہیے جب کہ یہ پارلیمںٹ ابھی تک تشکیل نہیں پائی ہے۔