.

سعودی عرب میں سائبر سیکورٹی کی رضاکارانہ تربیت دینے والی خاتون سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک نوجوان خاتون اور سائبر سیکورٹی کی ماہر نے رضاکارانہ طور پر سائبر سیکورٹی کے حوالے سے خواتین کو تربیت دینے کا منفرد پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اس نے اب تک 500 خواتین اور لڑکیوں کو سائبر سیکورٹی کے میدان میں ٹریننگ دینے میں کامیاب رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دلال الحارثی نے رواں سال اپریل میں اس پروگرام کاآغاز کیا۔ آغاز میں اس پرگرام میں 10 خواتین نے حصہ لیا مگر پروگرام تیزی کے ساتھ مقبول ہو گیا اور سائبر سیکورٹی کی تربیت کے لیے 3 ہزار خواتین نے اندراج کرایا۔ ان میں سے اس نے 500 کا انتخاب کیا جنہیں تربیتی عمل سے گذرا جا چکا ہے۔

اس حوالےسے متعدد کمپنیوں، روزگار فراہم کرنے والی ایجنسیوں اور نجی فرموں نے بھی اس سے رابطہ کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں الحارثی نے بتایا کہ میں اس زبردست ٹرن آؤٹ سے بہت خوش ہوں۔ مجھے اس پروگرام کی اتنی تیزی کے ساتھ مقبولیت کا یقین نہیں تھا۔ میرے پاس تربیت کے لیے سیکڑوں لڑکیاں آئیں مگر میں ابتدائی مرحلے میں ان میں سے 500 کا انتخاب کیا۔ تربیتی کیمپ کا آغاز وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹکنالوجی اور کلاسیرا کمپنی کی سرپرستی سے جون 2020 کے وسط ستمبر 2020 تک ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک رضاکارانہ پروگرام ہے جو صرف لڑکیوں کے لیے ہے۔

ایک سوال کے جواب میں دلال الحارثی کا کہنا تھا اس کا رضاکارانہ پروگرام سعودی عرب میں خواتین کو با اختیار بنانے کے سرکاری اور حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ اور حکومتی اصلاحات کا ثمر ہے۔ حکومت اور ملک کی قیادت خواتین کو مردوں کے برابر اور ان کے شانہ بہ شانہ دیکھنا اور انہیں تمام شعبوں میں خود مختار بنانے کے لیے کوشاں ہے۔