.

شامی خاتون اول اور رامی مخلوف کے درمیان اربوں لیرہ کی بدعنوانی کے سنگین الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد اور ان کے چچا زاد رامی مخلوف کے درمیان مالی تنازعات کئی سال سے جاری ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزامات بھی عاید کرتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق رامی مخلوف اور شامی خاتون اول اسما الاخرس کے درمیان جاری اربوں لیرہ کے عطیات کے مقابلے نے دونوں کے درمیان جاری رسا کشی واضح‌ کر دی ہے۔ اسما کے زیرانتظام چلنے والے ایک ادارے "سیریئن ٹرسٹ فار ڈویلپمنٹ" نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ ساحلی علاقوں میں آتش زدگی کے واقعات سے متاثرہ اور آفت زدہ قرار دیے گئے دیہاتوں کے عوام کی بہبود کے لیے 6 ارب لیرہ کی رقم خرچ کریں گی۔

قبل ازیں 13 اکتوبر کو بشارالاسد کے چچا زاد رامی مخلوف نے 'سریٹی' سیلولرٹیلی کام کمپنی کے توسط سے آتش زدگی سے متاثرہ علاقوں کے عوام کی بحالی کے لیے 7 ارب لیرہ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم مقامی مبصرین اور بشار الاسد کے مقربین نے رامی مخلوف کے اس اقدام کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ 'سیریٹیل' کمپنی اب رامی مخلوف کی ملکیت نہیں رہی کیونکہ یہ اب حکومت کی ملکیت ہے اور عدالت نے اس پر خصوصی نگران بھی مقرر کر دیا ہے۔

ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ رامی مخلوف کو یہ حق نہیں کہ وہ سیریٹیل کے وسائل کو اپنی مرضی سے عطیہ کرسکیں۔ ان کی طرف سے 9 اور 11 اکتوبر کے درمیان ساحلی علاقوں میں آتش زدگی سے متاثرہ عوام کے لیے ساتھ ارب لیرہ کے عطیات کا کوئی جواز نہیں کیونکہ وہ جس کمپنی کو اپنی ملکیت قرار دے رہے ہیں وہ دراصل ان کی نہیں بلکہ سرکاری کمپنی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ رامی مخلوف نے آتش زدگی سے متاثرہ علاقوں کے عوام کی بہبود کے لیے مدد کا اعلان کر کے بشار الاسد کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔

رامی مخلوف کی طرف سے 7 ارب لیرہ کے عطے کا اعلان شامی خاتون اول کے سیرین ٹرسٹ فار ڈویلپمنٹ' کے توسط سے 6 ارب لیرہ کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔

شامی خبر رساں ادارے 'سانا' کے مطابق سیرین ٹرسٹ' کی طرف سے اعلان کردہ رقم مخیر حضرات اور کاروباری شخصیات کے ذریعے حاصل کی جائے گی تاہم رامی مخلوف کا کہنا ہے کہ یہ رقم جنگ کے دوران ناجائز ذرائع سے پیسہ جمع کرنے والوں کی طرف سے دی جانے والی رقوم کو مخیر قرار دے کر قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سیرین ٹرسٹ سنہ 2001ء اور 2002ء میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ ایک غیر سرکاری اور غیر منافع بخش ادارہ تتھا جسے شام کے اندر اور باہر سے فنڈز مل رہے تھے۔ اس کی تشکیل میں شامی خاتون اول کاکلیدی کردار تھا اور وہی آج تک اس ادارے کی بلا شرکت غیرے سربراہ ہے۔ غیر سرکاری ہونے کے باوجود یہ تنظیم حکومتی وسائل سے بھرپور فواید سمیٹتی رہی ہے۔