.

عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین کا ’سایہ‘ عزت ابراہیم الدوری چل بسے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کے اہم دست راست عزت ابراہیم الدوری پیر کے روز انتقال کر گئے ہیں۔

صدام حسین کے سایہ کے طور پر مشہور عزت ابراہیم الدوری کو 1979 میں ملک کا نائب صدر مقرر کیا گیا تھا۔ صدام حسین کی 2003 میں حکومت کے خاتمے تک وہ اس عہدے پر فائز رہے تھے۔ وہ سابق صدر کے ساتھ امریکا کی قیادت میں اتحادی فوج کی سختیاں جھیلنے والوں میں شامل تھے۔

عزت الدوری ماضی میں عراق کی حکمراں سوشلسٹ بعث پارٹی اور اس کی انقلابی کونسل کے نائب صدر بھی رہے تھے۔ بعث پارٹی ایک طویل عرصہ عراق میں برسراقتدار رہی تھی۔ الدوری یکم جون 1942 کو پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے پانچ شادیاں کی تھیں۔ انھوں نے گیارہ بیٹے اور تیرہ بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔

انھیں عراق کے کویت پر حملے کے بعد عراقی مسلح افواج کا نائب سربراہ بھی مقرر کیا گیا۔وہ ہمیشہ صدام حسین کے ساتھ سائے کی طرح چلتے۔ ان کا یہ ساتھ 17جولائی 1968 کو شروع ہوا تھا اور صدام حسین کی امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری تک برقرار رہا تھا۔

وہ عراق کے وزیر داخلہ اور وزیر زراعت کے منصب پر بھی فائز رہے تھے۔ صدام حسین کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کے بعد وہ منظر سے ہٹ گئے۔ البتہ انھیں صدام حسین کی 2006 میں پھانسی کے بعد بعث پارٹی کا جنرل سیکرٹری مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ کئی برسوں سے ان سے متعلق کسی قسم کی معلومات نہیں تھیں کہ وہ کہاں روپوش یا قیام پذیر ہیں۔ تاہم ان سے منسوب آڈیو اور ویڈیو پیغامات مختلف ادوار میں سامنے آتے رہے ہیں۔

پانچ سال قبل بغداد کے شمال میں واقع شہر تکریت میں ایک جھڑپ میں ان کی ہلاکت کی افواہ پھیلی تھی۔ اس وقت ایک تصویر گردش میں رہی جسے الدوری کی لاش قرار دیا جاتا رہا۔ تصویر میں مہندی سے رنگی داڑھی والا ایک شخص دیکھا جا سکتا تھا جس کی شکل عزت الدوری سے ملتی تھی۔ اس وقت عراقی حکام نے نعش کے ڈین این اے ٹیسٹ کے بعد اسے عزت الدوری کے طور پر شناخت کرنے سے انکار کیا تھا۔