.

سعودی حکام نے مچھلیوں‌کے شکار کے 40 ممنوعہ جال قبضے میں لے لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت ماحولیات اور زراعت وآبی وسائل کی مچھلیوں کے ذخائر پرنظر رکھنے والی ٹیم نے ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران القنفذہ گورنری میں مچھلیوں کے شکار کے 40 ممنوعہ جال قبضے میں لے لیے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق مچھلیوں کے مذکورہ جال حکومت کی طرف سے شکار کے لیے ممنوع قرار دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ جال سمندری حیات اورمچھلیوں کے لیے مہلک ثابت ہوتے ہیں۔
حکومت کی طرف سے یہ اقدام علاقائی آبی حیات کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کا حصہ ہے۔
سعودی عرب کی مغربی گورنری القنفذرہ کے ڈائریکٹر برائے زراعت وآبی وسائل انجینیر حسن المعیدی نے کہا کہ 'قراقر' نامی شکار کی جالوں کو کچھ عرصہ قبل مچھلیوں اور آبی حیات کے لیے مضرقرار دیے جانے کے بعد انہیں متروک قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے ماہی گیروں سے کہا کہ وہ مچھلیوں کے شکار کے لیے مہلک ذرائع اور آلات کا استعمال نہ کریں اور سمندری حیات کے تحفظ کے لیے حکومت کی طرف سے وضع کردہ طریقہ کار کی پیروی کریں۔
دریں اثنا مکہ معظمہ کے ڈائریکٹر زراعت وآبی وسائل انجینیر سعید بن جارا اللہ الغامدی نے کہا کہ مچھلیوں کے شکار کے لیے غیرقانونی طریقوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نگران ٹیمیں سمندر میں ماہی گیری کے دوران غیرقانونی وسائل اور ذرائع اختیار کرنے والوں‌کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گی۔