.

سعودی وزارت ماحولیات کی جانوروں کے شکار کی مشروط اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت ماحولیات و پانی و زراعت نے نیشنل سینٹر برائے وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے یکم نومبر 2020ء سے 14 جنورہ 2021ء تک مخصوص علاقوں میں بعض جانداروں کو شکار کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزارت زراعت و ماحولیات کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں شکار کے لیے ممنوعہ جانوروں اور ممنوعہ علاقوں کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔

ایسے جاندار جن کی نسل ختم ہونے کا اندیشہ ہے ان کے شکار پرسختی کے ساتھ پابندی عاید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عربی نسل کے لمبے سینگوں والے ہرن کے شکار پرپابندی عاید ہے۔ اس کے علاوہ جنگلی بکرے، ہرن، عربی چیتے،لینکس، بھیڑیے اور فالکن کے شکار کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شکار کے لیے شکاری کتوں کے استعمال اور اسپرے گن کے ذریعے جانوروں کو مارنے پر بھی پابندی عاید کی گئی ہے۔

حکومت نے اس نے شہروں ، دیہاتوں ، عوامی مراکز، کھیتوں اور ریسٹ ہاؤسز کے قریب، یا کسی بھی آبادی ، فوجی ، صنعتی اور اہم تنصیبات کے قریب ، بحر احمر، آمالہ ، قدیہ اور دیگر مقامات پر شکار پرcپابندی عاید کی گئی ہے۔