.

لبنانی آرٹسٹ نے اہل بیروت کی حوصلہ افزائی کے لئے ملبے سے مجسمہ بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں 4 اگست کو ہونے والے ہولناک دھماکوں کے بعد شہر بھر میں پھیلنے والے خوف و ہراس کو مات دینے کے لئے ایک لبنانی خاتون نے دھماکے کے ملبے سے متاثر کن مجسمہ تخلیق کیا ہے۔

لبنانی آرٹسٹ حیات نظر نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد سے لبنان میں بد امنی ہی دیکھی ہے مگر وہ اپنے دکھ اور غم کے اظہار کے لئے مجسمہ سازی کا سہارا لیتی ہیں۔

33 سالہ حیات چار اگست کو بیروت کی طرف محو سفر ہی تھی کہ بیروت کی بندرگاہ پر امونیئم نائٹریٹ کے بڑے ذخائر میں ہولناک دھماکہ ہوا جس میں 190 افراد جاں بحق ہوگئے، زخمیوں کی تعداد 6 ہزار تک جاپہنچی اور تین لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے سے ان کو گہرا صدمہ ہوااور اہل لبنان ہی اس واقعہ کے غم میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کئی ہفتوں تک انہوں نے پھینکی ہوئی اشیا بھی جمع کیں اور لوگوں کے گھروں سے ٹوٹی ہوئی اشیا اٹھائیں ۔ حیات نے دیکھا کہ لوگوں نے انہیں نہایت قیمتی اور یادگار اشیا بھی دیدیں جو اب اس مجسمے کا حصہ بن چکی ہیں۔ دن رات کی محنت سے انہوں نے لبنانی پرچم بردار لڑکی کا مجسمہ تیار کیا جس کے قدموں میں ایک گھڑی بنائی گئی ہے۔ یہ گھڑی 6 بج کر 8 منٹ پر رکی ہوئی ہے جو دھماکہ کا وقت ہے۔