.

مصر سے کشیدگی میں کمی اور فلسطینی مصالحت کے لیے حماس کے وفد کی قاہرہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' کا ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد اتوار کے روز مصر کے خصوصی دورے پر قاہرہ پہنچا ہے۔
العربیہ چینل کے ذرائع کے مطابق حماس کے وفد کی آمد کا مقصد مصر کے ساتھ جاری کشیدگی میں کمی اور فلسطینی دھڑوں میں مصالحتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔

سوموار کو مصری ذرائع نے بتایا کہ قاہرہ نے حماس کے وفد سے ملاقاتوں کے دوران تنظیم کی ترکی سے قربت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قاہرہ نے حماس سے کہا ہے کہ مصر کو سونپے جانےوالے کاموں میں ترکی کو مداخلت سے گریز کرنا ہوگا۔

مصری حکام نے حماس رہ نمائوں‌پر واضح کیا ہے کہ فلسطین کے معاملے میں مصر کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

قاہرہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ہونے والی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے اقدامات کرےگا۔

دوسری جانب حماس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت نے مصر کو متعدد پیغامات دیے ہیں۔ ان میں اہم امور میں مصری حکومت سے مشاورت کی یقین دہانی اور غزہ کے علاقے میں کرونا سے نمٹنے کےلیے مصری حکومت کی طرف سے امداد کی درخواست کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ 22 اگست کو حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے ترکی کے دورے کے دوران ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات میں ترک انٹٰلی جنس چیف ھاکان فیدان، صدر کے مواصلات امور کے معاون فخرالدین الطون، ایوان صدر کے ترجمان ابراہیم قالن موجود تھے۔ اس موقعے پر اسماعیل ھنیہ نے نئے اسلامی سال کے آغاز اور ترکی میں نئے قدرتی وسائل کی دریافت پر ترک صدر کو مبارک باد پیش کی تھی۔