.

امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے والا ایرانی طیارہ وینزویلا پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک فضائی کمپنی کا طیارہ منگل کے روز وینزویلا میں اتر گیا۔ شام اسلحہ منتقل کرنے کے سبب مذکورہ کمپنی "قشم فارس" کو امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔ یہ بات وینزویلا میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ کے بیان اور پروازوں سے متعلق ڈیٹا میں سامنے آئی۔

ایرانی کمپنی کا 747 طیارہ ایسے وقت میں وینزویلا پہنچا ہے جب تہران اور کراکس کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھوتی کی جانب گامزن ہیں۔ واضح رہے کہ ایران اور وینزویلا کو اس وقت امریکا کی جانب سے کڑی پابندیوں کا سامنا ہے۔ ایرانی طیارے کی وینزویلا آمد کا مقصد فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا۔

پروازوں سے متعلق معلومات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایرانی طیارہ تونس اور الراس الاخضر میں ٹھہرا تھا جس کے بعد وہ وینزویلا روانہ ہو گیا۔

ایران اور وینزویلا کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کو واشنگٹن کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکا اس وقت وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو کے اقتدار چھوڑنے اور ایران کے جوہری پروگرام کو ناکام بنانے کے واسطے دباؤ ڈال رہا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے جنوری 2019ء میں "قشم فارس" فضائی کمپنی اور بالخصوص اس طیارے پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کمپنی نے شام کو "مہلک مواد پہنچایا ہے"۔ اس طرح وہ شام کے صدر بشار الاسد کے لیے ایرانی عسکری سپورٹ کی فراہمی میں مدد گار بنی۔

سال 2017ء ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام فضائی کمپنی "قشم فارس" نے ایرانی فضائی کمپنی "ماہان ایئر" کے ذریعے دو استعمال شدہ بوئنگ طیارے خریدے تھے۔ ان طیاروں کے ایران پہنچنے کے بعد انہیں 2018ء کے آغاز سے دمشق سے تہران ہتھیار پہنچانے کے لیے استعمال میں لایا جاتا رہا۔