.

ایران : پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کرونا وائرس کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خود کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا اعلان کیا ہے۔ قالیباف کے مطابق وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ اس وبا کا شکار ہوئے ہیں اور طبی بنیادوں پر قرنطینہ میں ہیں۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ایران میں کئی سرکاری عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ وہ 2017ء میں تہران کے میئر تھے۔ علاوہ ازیں 2000ء سے 2005ء کے دوران قالیباف نے پولیس سربراہ کے طور پر کام کیا۔ اس سے قبل 1990ء کی دہائی میں وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے میں کمانڈر تھے۔ اسی طرح قالیباف نے 1997ء سے 2000ء کے درمیان ایرانی پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ کے طور پرفرائض انجام دیے۔ وہ پاسداران انقلاب کی قیادت کے نیٹ ورک میں مضبوط روابط رکھتے ہیں۔ ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ کے ساتھ بھی قالیباف کے گہرے اور پرانے تعلقات ہیں۔ رہبر اعلی کی نظر میں انہیں فوقیت حاصل ہے جس کے سبب انہیں تمام عسکری رتبوں اور سیاسی منصبوں سے نوازا گیا۔

محمد باقر قالیباف نے بدھ کی صبح اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ "میرے دفتر کے ایک ساتھی کرونا سے متاثر ہو گئے۔ اسی واسطے میں نے گذشتہ نصف شب اپنا کرونا کا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آیا"۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے رواں ماہ 5 اکتوبر کو "خمینی شفا خانے" کا دورہ کیا تھا اور وہاں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں کرونا کے مریضوں کے ساتھ بات چیت کی۔ اس کے نتیجے میں حکومتی ذمے داران نے قالیباف پر نکتہ چینی کی اور صدر حسن روحانی بھی کرونا کے منتقل ہونے کے خوف سے قالیباف کے ساتھ اپنی ملاقات منسوخ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ ملاقات قالیباف کے خمینی شفاخانے کے دورے کے اگلے روز طے تھی۔

متعدد ایرانی عہدے داران کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ان میں ایرانی رہبر اعلی کے مشیر علی اکبر ولایتی، پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر علی لاریجانی اور ایرانی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالح شامل ہیں۔ تاہم یہ تمام شخصیات اس وبائی مرض سے صحت یاب ہو چکی ہیں۔

ایران میں کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد سے تقریبا 40 ارکان پارلیمنٹ میں کوویڈ 19 سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی۔ ان میں 3 متاثرین فوت ہو چکے ہیں۔

ایرانی وزارت صحت کی جانب سے منگل کے روز اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک میں 33 ہزار سے زیادہ افراد کرونا وائرس کے سبب موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں روزانہ کی بنیادوں پر اموات اور متاثرین کی ریکارڈ تعداد سامنے آ رہی ہے۔