.

کفالت سسٹم خاتمے سے متعلق خبروں کی حقیقت وزارت افرادی قوت نے واضح کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت انسانی وسائل وافرادی قوت نے کفالت کا نظام ختم کرنے سے متعلق خبر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کئی فارمولوں پر غور کر رہی ہے۔

وزارت کے ترجمان ناصر الہذانی نے سرکاری ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’وزارت افرادی قوت لیبر مارکیٹ کو منظم کرنے کے لیے متعدد فارمولوں پر کام کر رہی ہے‘۔ ترجمان نے بتایا ہے کہ’اس حوالے سے جیسے ہی کوئی فارمولہ منظور ہوگا تو اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔‘

واضح رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک آن لائن پورٹل نے اپنے ذرائع سے خبر جاری کی تھی کہ وزارت افرادی قوت کفالت سے متعلق نظام میں کچھ تبدیلیاں کرنے جا رہی ہے۔

مذکورہ خبر جاری ہوتے ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گرما گرم بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا اور وسیع پیمانے پر شہریوں سمیت غیر ملکیوں نے اس بحث می بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کر دیا، جس کے بعد متعدد غیر ملکی خبر رساں اداروں نے اہم خبر کے طور پر اپنے نیٹ ورکس سے جاری کر دیا۔

وزارت افرادی قوت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کی معلومات سرکاری ذرائع سے حاصل کی جائیں۔‘