.

فرانس میں تاریخی قتل عام والے علاقے میں چاقو حملوں سے تین ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں اسلام کے خلاف خلاف نفرت آمیز مہم کے بعد سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب جانب جمعرات کے روز روز چاقو حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں سے ایک شخص کو چاقو سے ہلاک کیا گیا۔ پرتشدد واقعے کے نتیجے میں‌ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ جنوب مغربی فرانس کے نیس شہر میں پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک دہشت گردانہ کارروائی ہے جس میں ملوث شخص کو پکڑ لیا گیا ہے۔

ایک پولیس ذرائع نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ نوترے ڈیم کیتھڈرل میں دو افراد ایک مرد اور ایک عورت ہلاک ہو گئے جبکہ ایک تیسرا قریبی بار میں شدید زخمی ہونے کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔

فرانسیسی انسداد دہشت گردی حکام نے اس واقعے کو "دہشت گردانہ" حملہ قرار دے کر اس کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی تھی کہ شہر میں نوترے ڈیم کیتھڈرل کے قریب چھریوں کے واردات میں دو افراد (ایک مرد اور ایک عورت) ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں 2016 کے موسم گرما میں دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی دیکھنے میں آئی تھی جس کے نتیجے میں اس وقت 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمنین نے اعلان کیا کہ شہر میں سیکیورٹی آپریشن جاری ہے۔ اس واقعے کی پیروی کے لیے ایک کرائسز سیل قائم کیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ حملہ آور نے ایک خاتون کا سر قلم کیا اور ایک اور کو ذبح کیا اور ایک اور شخص کو چاقو سے زخمی کیا گیا۔

ایک پولیس عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ حملہ آور کو گرفتاری کے دوران زخمی ہونے کے بعد اسے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔ پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ حملہ آور بہ ظاہر تنہا لگتا ہے اور اس کارروائی میں اس کا کوئی اور معاون نہیں۔

اس واقعے کے بعد فرانسیسی صدرعمانویل میکرون کرائسز سیل کی سربراہی کے لیے وزارت داخلہ کے صدر دفتر گئے جب کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سرکاری وکیل نے حملے کی تحقیقات کے حوالے سے بریفنگ دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں