.

لبنان اسرائیل اجلاس کی تصاویر لینے والے صحافیوں پر حزب اللہ کے ارکان کا دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی حد بندی کے حوالے سے دونوں ملکوں کے ذمے داران کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں دوسرا اجلاس گذشتہ روز لبنان کے شہر ناقورہ میں منعقد ہوا۔

اگرچہ صحافیوں کو ان ملاقاتوں کی عکس بندی یا اجلاس کے مقام کے قریب آنے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم لبنانی سرکاری ٹیلی وژن کی ایک خاتون رپورٹر نے تصدیق کی ہے کہ اس نے لبنانی فوج سے تصویر کشی کی اجازت لی تھی۔ لبنانی فوج اور یونیفل کی فورسز نے اجلاس کی جگہ کی سمت جانے والے راستے بند کر دیے اور علاقے میں ان کے دستوں کا گشت جاری رہا۔ علاوہ ازیں فضا میں یونیفل فورسز کے ہیلی کاپٹروں کو گشت کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

خاتون رپورٹر نیلہ شہوان نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ "ناقورہ میں مذاکرات کے سیشن کی کوریج کے وقت جب کہ ہم لبنانی فوج سے تصویر کشی کی اجازت لے چکے تھے ، شہری لباس میں ملبوس تین نوجوان ہماری طرف بڑھے اور ہمیں علاقے سے باہر نکال دیا۔ انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق ایک مخصوص جماعت سے ہے۔ میں نے اپنے ٹی وی اسٹیشن میں متعلقہ افراد سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے مجھ پر ان کی تصاویر بنانے کا الزام عائد کر دیا۔ ساتھ ہی میرا موبائل فون لے کر اس کو توڑ دیا اور میری جانب سے لی گئی متعدد تصاویر ضائع کر دیں۔ ان لوگوں نے ہمیں کوچ کر جانے کے لیے 3 منٹ کی مہلت دی بصورت دیگر..".

خاتون رپورٹر نے مذکورہ نوجوانوں کی وابستگی کی تفصیل نہیں بتائی تاہم روزنامہ "النہار" کے رپورٹر نے تصدیق کی ہے کہ ان نوجوانوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق حزب اللہ سے ہے۔ انہوں نے تمام صحافیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جگہ سے فورا کوچ کر جائیں جس کے بعد ایسا ہی ہوا۔

صحافیوں پر چڑھائی کرنے کے اس واقعے کے بعد لبنانی نگراں حکومت میں خاتون وزیر اطلاعات منال عبد الصمد نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے اور متعلقہ سیکورٹی اداروں کی مداخلت کا تقاضا کرتا ہے تا کہ میڈیا کے افراد اور اس پیشے کے تقدس کا تحفظ کیا جا سکے۔ تاہم خاتون وزیر اطلاعات کی صدا بظاہر ٹویٹر سے آگے نہ بڑھ سکی اس لیے کہ نہ تو کوئی سیکورٹی ادارہ حرکت میں آیا اور نہ حکومت کے کان پر جوں رینگی۔

یاد رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان متنازع سمندری حدود کے حوالے سے دونوں ملکوں کے عہدے داران کے بیچ بات چیت کا دوسرا دور گذشتہ روز بدھ کو منعقد ہوا۔ یہ بات چیت امریکا کی وساطت سے ہو رہی ہے۔ تاہم ذرائع نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو باور کرایا ہے کہ فریقین کے درمیان اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔ ان ذرائع نے واضح کیا کہ فریقین نے گذشتہ روز مجوزہ حدود واضح کرنے کے لیے نقشے پیش کیے۔ تاہم یہ نقشے ایک دوسرے سے متصادم تھے۔

لبنانی سیکورٹی ذرائع کے مطابق ان کے ملک کے وفد کی جانب سے پیش کی جانے والی تجویز سرحدی علاقے کے جنوب تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ وہ ہی تجویز ہے جو لبنان کئی برس پہلے سے اقوام متحدہ کو پیش کرتا رہا ہے۔

بات چیت پر مطلع ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ اسرائیلی وفد کی جانب سے پیش کیے جانے والے نقشے میں شمالی حدود کو اس حد سے زیادہ بڑھا دیا گیا ہے جو ماضی میں اسرائیل کے موقف میں پیش کی جاتی رہی۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان بات چیت کا اگلا دور آج جمعرات کے روز متوقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں