.

نطنز میں ایران کی زیر زمین جوہری تنصیب کی نئی سیٹلائٹ تصاویر جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی نئی تصاویر میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران نطنز میں اپنی جوہری تنصیبات کی دوبارہ تعمیر زیر زمین طور پر کر رہا ہے۔ ان تنصیبات کو چند ماہ قبل نشانہ بنایا گیا تھا۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے سینٹری فیوجز اکٹھا کرنے کے لیے واقعتا پہاڑوں کے بیچ زیر زمین ایک اسٹیشن کی تعمیر شروع کر دی ہے۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی IAEA کے سربراہ رافائیل گروسی نے منگل کے روز برلن میں ایک بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران نے کم افزودہ یورینیم کی مقدار ذخیرہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تاہم ایسا نظر نہیں آتا کہ تہران کے پاس اتنی مقدار ہے جو جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کافی ہو۔

گروسی کا کہنا ہے کہ "انہوں نے آغاز کر دیا ہے مگر ابھی تک تعمیر مکمل نہیں ہوئی۔ یہ ایک طویل عمل ہے"۔ گروسی کے مطابق "یہ خفیہ معلومات ہیں"۔

ایرانی جوہری ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے گذشتہ ماہ سرکاری ٹی وی پر بتایا تھا کہ نطنز میں زمین کے اوپر تباہ ہونے والی تنصیب کو پہاڑوں کے بیچ ایک دوسری تنصیب سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جولائی میں نطنز کی جوہری تنصیب پر ہونے والے دھماکے کے بعد تہران نے اعلان کیا تھا کہ یہ تخریب کاری کی ایک کارروائی ہے۔ نطنز میں ملک میں یورینیم کی افزودگی کی مرکزی تنصیب واقع ہے۔

Iran

زیر زمین تنصیب کے طویل ہالز میں سینٹری فیوجز کے ذریعے uranium hexafluoride گیس کی سائیکلنگ کی جاتی ہے تا کہ یورینیم افزودہ کیا جا سکے۔

نطنز 2002ء میں ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے اس وقت مغربی ممالک کے اندیشوں اور تشویش کا محور بن گیا جب سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا کہ ایران یہاں پر زیر زمین تنصیب کی تعمیر کر رہا ہے۔ یہ مقام دارالحکومت تہران کے جنوب میں تقریبا 200 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں