.

ایران سے تعلق، متعدد اداروں اور شخصیات پرامریکا کی نئی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تازہ اقدام میں امریکا نے جمعرات کے روز ایران سے تعلق کے الزام میں متعدد افراد اور اداروں پر پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے کچھ چین اور سنگاپور میں میں قائم کمپنیاں شامل ہیں۔

تفصیلات میں امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے ایک بیان جاری کیا جس میں ایرانی پٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے میں مدد فراہم کرنے والی کمپنیوں پر پابندیاں عاید کرنے کی وضاحت کی گئی ہے۔ وزارت نے 8 ایسے اداروں کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت اور خریداری میں حصہ لیا۔

امریکی ذرائع نے بتایا کہ ایران نے عراقی بینکوں کو حزب اللہ کو رقوم منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

دو روز قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرانی اداروں پر پابندیاں عاید کرنا "زیادہ سے زیادہ دباؤ" مہم کا ایک اہم قدم ہے جس کا مقصد ایرانی حکومت کی طرف سے اپنے ہمسایہ ممالک کو خطرے میں ڈالنے کی سازشوں کو روکنا اور ایران کو مشرق وسطٰی میں عدم استحکام پیداکرنے کے اقدامات سے باز رکھنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی ایران پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ" مہم ایرانی حکومت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس کا ہدف ایران نہیں۔

اس کے علاوہ گذشتہ پیر کو امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کیں جن میں ایران کے وزارت تیل، وزیر تیل، ایرانی نیشنل آئل کمپنی اور نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی سمیت اس کے تیل کے شعبے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔