.

خواتین مسافروں سے بدسلوکی پر برطانیہ میں قطر کے خلاف باضابطہ درخواست دائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطری فضائی کمپنی کی جانب سے دوحا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر خواتین مسافروں کی مبینہ طور پر برہنہ تلاشی کے واقعے پر قطر کے خلاف عالمی سطح پر شکایات کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قطری ہوائی اڈے پر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعے پر قطری حکام پر تنقید اور اس واقعے کی مذمت میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بعد برطانیہ کی بھی مزید دو خواتین مسافروں نے بھی لندن میں قطری ایئرویز کے خلاف درخواست دی ہے اور اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی سفارت کاروں‌ کا کہنا ہے کہ دو برطانوی خواتین مسافروں‌ نے قطری حکومت اور دوحا کی فضائی کمپنی کے خلاف درخواست دی ہے۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ خواتین کو ضروری قانونی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف قطری سرکاری رابطہ دفتر نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ مذکورہ بالا چیکنگ کے دوران خلاف ورزی ہوئی ہے۔

بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر متعدد خواتین مسافروں کی تلاشی اور معائنہ کے طریقہ کار کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکام نے ملوث افراد کو استغاثہ کے حوالے کردیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دو اکتوبر کو دوحا ایئر پورٹ پر قطری سیکورٹی نے سڈنی جانے والی پرواز کے مسافروں کو زبردستی نیچے اتار کر خواتین کی ناگوار انداز میں تلاشی پر مجبورکیا۔

قطری حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کی تلاشی اس لیے لی گی تھی کیونکہ ہوائی اڈے پر رکھے ایک کوڑے دان سے پلاسٹک بیگ میں رکھی بچی کی لاش پائی گی تھی۔