.

لبنان میں حزب اللہ کے 'مواصلاتی نیٹ ورک' کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک طرف لبنان کا سیاسی و اقتصادی بحران سنگین تر صورت اختیار کرتا جا رہا ہے تو دوسری طرف حکومت کی تشکیل کا معاملہ بھی درحقیقت حزب اللہ تنظیم کے غلبے اور نفوذ کے زیر اثر نظر آ رہا ہے۔

لبنانیوں کی ایک بڑی تعداد کو 5 مئی 2008ء کا دن یاد ہے جب حزب اللہ نے عسکری طور پر دارالحکومت بیروت پر اور جبل لبنان کے دیہات پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس دوران 100 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ اس سے قبل اس وقت کے لبنانی وزیر اعظم فؤاد السنيورہ کی حکومت نے حزب اللہ کے "مواصلاتی نیٹ ورک" کو غیر قانونی اور غیر آئینی شمار کرتے ہوئے اسے ریاست کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا تھا۔

اس وقت حکومتی رپورٹ میں تصدیق کی گئی تھی کہ حزب اللہ کے مواصلاتی نیٹ ورک میں ایک لاکھ تک لائنیں شامل ہو سکتی ہیں اور یہ نیٹ ورک حزب اللہ کو عمومی ٹیلی فون نیٹ ورک کے ساتھ مربوط ہونے کا موقع دیتا ہے۔ حکومت نے اس نیٹ ورک کے ذمے دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ حزب اللہ کی اس پیش رفت میں ایران کا بھی کردار موجود ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے باور کرایا کہ یہ مواصلاتی نیٹ ورک تنظیم کے سیکورٹی نظام کا حصہ ہے جس کا مقصد اسرائیلی اداروں کے کام میں خلل ڈالنا ہے۔ حزب اللہ کے مطابق اس نیٹ ورک نے 2006ء میں اسرائیلی جنگ کے دوران لڑائی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے دُرزی گروپ کے سربراہ ولید جنبلاط نے بھی 7 مئی 2008ء کے واقعات کی یاد دہانی کرائی جن کے نتیجے میں حکومت نے حزب اللہ کا مواصلاتی نیٹ ورک ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

گذشتہ صدی میں 1990ء کی دہائی کے اوائل میں لبنان میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تو حزب اللہ نے اپنے مواصلاتی نیٹ ورک کو لبنان کے متعدد علاقوں میں پھیلانا شروع کر دیا۔ یہ نیٹ ورک ریاست کے زیر انتظام مواصلاتی نیٹ ورک کے متوازی تھا۔

حزب اللہ کا مواصلاتی نیٹ ورک ایک ہتھیار کی طرح تنظیم کے سیکورٹی نظام کا حصہ بن گیا۔ جنوبی لبنان مقبوضہ فلسطین کی اراضی کی سمت حزب اللہ کی عسکری کارروائیوں کے واسطے نقطہ آغاز بن گیا تھا لہذا عسکری محاذوں کی قیادت اور حزب اللہ کے ذمے داروں کے درمیان رابطے کو ایک خصوصی مواصلاتی نیٹ ورک کے ذریعے مضبوط بنانا نا گزیر تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی معلومت کے مطابق حزب اللہ نے 1990ء کے اوائل میں مواصلاتی نیٹ ورک پھیلانے کا آغاز کیا۔ بالخصوص لبنان کے جنوب، البقاع اور بیروت کے جنوب میں ضاحیہ اور دیگر مضافات میں زیر زمین کیبلز بچھانے کے لیے کھدائی کا کام ہوا۔ جنوبی لبنان، البقاع اور بیروت کے جنوب میں حزب اللہ کا مواصلاتی نیٹ ورک زیر زمین کیبلز کی صورت میں ہے جب کہ شمالی علاقے اور جبل لبنان میں بعض مسیحی علاقوں میں وائرس لیس مواصلاتی نیٹ ورک کو پھیلایا گیا۔

جولائی 2006ء کی جنگ کے آغاز کے فوری بعد اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں اس مواصلاتی نیٹ ورک کے بڑے حصے کو شدید نقصان پہنچا۔ اس دوران ایران نے اپنے لوگوں کو بھیجا تا کہ جنوبی لبنان میں اس مواصلاتی نیٹ ورک کو دوبارہ پھیلانے میں مدد کی جا سکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی معلومات کے مطابق حزب اللہ تنظیم میں عسکری اور سیاسی ذمے داران اور عناصر کی اکثریت بالخصوص مجلس شوری کے ارکان تنظیم کے خصوصی مواصلاتی نیٹ ورک کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں۔

یہ مواصلاتی نیٹ ورک حزب اللہ کے ذمے داران اور عسکری قیادت تک محدود نہیں بلکہ اس میں لبنانی ریاست میں مختلف شعبوں اور سرکاری انتظامیاؤں میں ذمے داریاں سنبھالے ہوئے اعلی ذمے داران بھی شامل ہیں۔ یہاں تک کہ ایک اہم سابق وزیر (ہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کریں گے) بھی جو اپنی سیاسی جماعت کے نمائندے کی حیثیت سے حزب اللہ کے ذمے داران کے ساتھ ملاقاتوں میں موجود ہوتے ہیں ،،، وہ بھی حزب اللہ کے مواصلاتی نیٹ ورک میں شامل ہیں۔

لبنان کے ایک سابق وزیر اعظم فؤاد السنيورہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "حزب اللہ کا مواصلاتی نیٹ ورک ابھی تک قائم ہے۔ تنظیم اس کے ذریعے ریاست کے زیر انتظام مواصلاتی نظام میں داخل ہوتی ہے تا کہ لبنان میں ہر چیز کی نگرانی کر سکے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ لبنانی ریاست اس نیٹ ورک پر اختیار نہیں رکھتی ہے"۔

دوسری جانب 2008ء میں حزب اللہ کے مواصلاتی نیٹ ورک کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے والی فؤاد السنيورہ کی حکومت کے وزیر مواصلات مروان حمادہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ نیٹ ورک لبنان میں انتہائی شمال سے لے کر انتہائی جنوب تک اور البقاع، بیروت اور جبل لبنان ہر جگہ بالخصوص مسیحی علاقوں میں موجود ہے"۔

لبنان کے سابق رکن پارلیمنٹ اور "مارچ 14" سیاسی اتحاد کے جنرل سکریٹریٹ کے رابطہ کار فارس سعید نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ لبنانی ریاست یہ تسلیم کرتی ہے کہ مذکورہ مواصلاتی نیٹ ورک ملک میں غیر قانونی ہتھیاروں کا حصہ ہے۔