.

سانپوں اور مگر مچھوں کے شوقین سعودی سپیرے سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سانپ اور مگر مچھ جیسے خطرناک جانوروں کی پرورش ہر کس و ناکس کے بس کا روگ نہیں مگر معاشرے میں خال خال لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو سانپ جیسے موذی اور مگر مچھ جیسے خون خوارجانوروں کے ساتھ دوستی کرکے انہیں سدھانے کا مشکل مشغلہ اپناتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ ‌نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے جازان کی ابو عریش گورنری سے تعلق رکھنے والا ایک سعودی مہند دیباجی بھی ان لوگوں میں شامل ہے جو سانپ اور مگر مچھ جیسے خطرناک جانوروں کو پالنے اور ان سے دوستی کرنے کا فن جانتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے دبیاجی نے بتایا کہ جانوروں سے رغبت اور ان کے دوستی کا شوق اس وقت پیدا ہوا اس کی عمر 12 سال تھی۔ اس نے مقامی سطح پر 'ابوالسیور' قسم کے سانپ پالنا شروع کیے۔ اس سات سال قبل اس نے اپنے شوق کو وسعت دیتے ہوئے مگرمچھ بھی گھر میں رکھ لیے۔ تین سال بعد اس نے ایک اور مگر مچھ خرید لیا۔

مہند دیباجی نے بتایا کہ میں چھوٹے چھوٹے سائز کے مگر مچھ خرید کرتا۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ انہیں آسانی کے ساتھ سدھایا جاسکتا ہے۔ مگر اب میں بڑی عمر کے مگر مچھوں‌ کو بھی سدھا رہا ہوں۔ مگر میں جانتا ہوں‌ کہ مگر مچھوں کے قریب جانا اور ان سے ڈیل کرنا کتنا مشکل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ میں نے ایک بھیڑیے کو بھی سدھایا ہے۔ اب وہ آسانی کے ساتھ انسانوں سے ڈیل کرتا ہے۔ اسے دو ماہ تک پنجرے میں رکھا۔ شام کے وقت میں اسے اپنے ہاتھ سے خوراک دیتا۔ یہاں تک کہ وہ مجھ سے مانوس ہو گا۔ مانوس ہونے کے بعد میں‌ نے اسے پنجرے سے نکالا اور پارک میں لے گیا۔ نے نے اسے نہلایا اور دوبارہ پنجرے کے لیے تیار کیا۔

Saudi Citiznen has rear animals

مہند نے بتایا کہ اس وقت اس کے پاس 100 خطرناک سانپ ہیں۔ ان میں ابو السیور، الارقم، عربی کوبرا، صحرائی کوبرا، سجاد، اصلات، پرومیسز اور پائتھن نسل کے سانپ شامل ہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں سعودی سپیرے کا کہنا تھا کہ اس کے پاس موجود خطرناک سانپوں میں 'کالا ناگ' بھی شامل ہے۔ یہ سانپ اپنے شکار پرحملہ کرکے اس کے اعصابی اور خونی نظام پر بہ یک وقت اثر کرتا ہے۔ یہ سانپ جازان کی وادیوں میں پایا جاتا ہے۔