.

جوزف بائیڈن صدر امریکا منتخب ہونے کے بعد فلسطینیوں کی مالی امداد بحال کردیں گے

واشنگٹن میں پی ایل او کا دفتر اور مشرقی القدس میں امریکی قونصل خانہ دوبارہ کھول دیا جائے گا: کمالا ہیرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیداوار جوزف بائیڈن منتخب ہونے کی صورت میں فلسطینیوں کی مالی امداد بحال کردیں گے اور واشنگٹن میں تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کا دوبارہ دفتر بھی کھول دیں گے۔

اس بات کا اعلان ان کے ساتھ نائب صدارت کی امیدوار کمالا ہیرس نے جریدے ’دا عرب امریکن‘ سے انٹرویو میں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ہم فلسطینی عوام کی اقتصادی اورانسانی امداد کی بحالی کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں گے۔غزہ میں جاری انسانی بحران کا حل نکالیں گے۔مشرقی القدس (یروشلیم) میں امریکی قونصل خانہ دوبارہ کھولیں گے اور واشنگٹن میں پی ایل او کا مشن دوبارہ کھولنے کے لیے بھی اقدامات کریں گے۔‘‘

جوزف بائیڈن صدر منتخب ہونے کے بعد یہ اقدامات کرتے ہیں تو وہ اس طرح موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اقدامات پر خطِ تنسیخ پھیر دیں گے۔ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکی محکمہ خارجہ نے غربِ اردن اور غزہ کی پٹی میں آباد فلسطینیوں کی 20 کروڑ ڈالر کی امداد بند کردی تھی اور مشرقی القدس میں رہنے والے فلسطینیوں کو الگ سے دی جانے والی ڈھائی کروڑ ڈالر کی امداد بھی روک لی تھی۔البتہ اس نے اس سال فلسطینی اتھارٹی کو کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے صرف پچاس لاکھ ڈالر کی مالی امداد دی ہے۔

محکمہ خارجہ نے اپنے فیصلے کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ فلسطینی تحریک مزاحمت حماس کے غزہ پر کنٹرول کی وجہ سے اس کی امداد معطل کی گئی تھی۔ امریکی محکمہ خارجہ حماس کو دہشت گرد قراردیتا ہے۔

فلسطینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے مالی امداد میں کٹوتی سے ہزاروں فلسطینیوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوگئی ہیں۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی مہاجرین کی امداد کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی اُنروا کے فنڈ بھی روک لیے تھے اور اس پر امدادی کاموں میں بدعنوانیوں کےالزامات عاید کیےتھے۔امریکا اس ایجنسی کو ٹرمپ انتظامیہ کےاس فیصلے سے قبل 36 کروڑ ڈالر کی سالانہ امداد مہیا کررہا تھا۔

اُنروا 1949ء میں پہلی عرب اسرائیل جنگ کے بعد قائم کی گئی تھی۔اس کے خلاف اب بدعنوانیوں اور غلط رویوں کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہے۔اس کے سربراہ نے 2019ء میں بدعنوانیوں اور بدانتظامی کے الزامات پر اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دور حکومت میں امریکا کا اسرائیل کی جانب زیادہ جھکاؤ رہا ہے اور انھیں اسرائیل نوازی پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔ انھوں نے 2018ء میں اسرائیل میں امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے یروشلیم منتقل کردیا تھا اور اس کو اسرائیل کا ’’غیرمنقسم‘‘ دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کردیا تھا جبکہ گذشتہ سال مشرقی القدس میں امریکی قونصل خانے کو بند کردیا تھا۔

جوزف بائیڈن صدر منتخب ہونے کی صورت میں امریکی سفارت خانے کو یروشلیم ہی میں برقرار رکھنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔البتہ وہ مشرقی القدس میں امریکی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں۔