.

مصری صدر اور جرمن چانسلر کی لیبیا کے بحران پر بات چیت

لیبیا میں غیرملکی مداخلت اور غیرملکی جنگجووں کی آمد روکنے کے موقف پر قائم ہیں:السیسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے جرمن چانسلر انجیلا میرکل سے ٹیلیفون پر بات چیت میں لیبیا میں جاری بحران سے متعلق انہیں مصر کے اصولی موقف سے آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبیا کے بحران کا واحد حل بیرونی مداخلت کا باب بند کرنے اور غیرملکی جنگجووں کی واپسی میں ہے۔

دونوں رہ نماوں‌ نے ویڈیو کال کے ذریعے لیبیا کی موجودہ صورت حال اور اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔

السیسی نے لیبیا کے مسئلے پر مصر کی مستحکم اسٹریٹجک پوزیشن واضح‌ کرتے ہوئے کہا کہ برلن کانفرنس اور قاہرہ اعلامیے کے نتائج پر مبنی تمام مراحل پر ہونے والے مذاکرات کی حمایت کے ساتھ لیبیا کو غیر ملکی جنگجوؤں سے انخلا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبیا میں غیرقانونی بیرونی مداخلت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ بیرونی مداخلت جاری رہی تو لیبیا کا بحران ختم نہیں ہو گا۔

صدر عبدالفتاح السیسی نے مصر کا لیبیا سے متعلق موقف واضح ہے۔ ہم پڑوسی ملک میں جاری لڑائی روکنے، متحارب فریقین میں جنگ بندی اور تمام محاذوں پر جھڑپیں روکنے پر زور دیتے ہیں۔

جمہوریہ مصر کے ایوان صدر کے سرکاری ترجمان سفیر بسام ررضی نے بتایا ہے کہ اس ویڈیو کال میں مصر اور جرمنی کے مابین اسٹریٹجک باہمی تعلقات سے متعلق متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ صدر السیسی اور انجیلا میرکل کے درمیان یورپی ممالک میں تناؤ کے حالیہ واقعات، انتہا پسندی کے نظریے کا مقابلہ کرنے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی بات چیت ہوئی۔

اس موقعے پر جرمن چانسلر نے مصری صدر کو یقین دلایا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے برلن مصر کے اعتدال پسند مذہبی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس تناظر میں مصری صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کی عظیم مذہبی اقدار کا انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کارروائیوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے انسانی امن کی اقدار کو پھیلانے اور پرامن بقائے باہمی کے نظریہ کو مستحکم کرنے کے مقصد کے ساتھ تمام فریقوں سے مختلف مذہبی اداروں کی شراکت کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے اجتماعی اقدام کی اہمیت پر زور دیا۔